مضامین بشیر (جلد 4) — Page 96
مضامین بشیر جلد چهارم 96 پھر آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ ابھی تو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی اولاد زندہ ہے اور بعید نہیں کہ آگے چل کر خدا ان کو ہدایت دے دے اور یہی ہماری دعا ہے۔اور آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے دولڑ کے اور ایک لڑکی اور ایک بیوی ہدایت کی حالت میں ہی فوت ہو کر مقبرہ بہشتی میں دفن ہو چکے ہیں۔پس فرق ظاہر ہے اور آپ آسانی کے ساتھ اس معاملہ میں سوچ سکتے تھے۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور حافظ و ناصر رہے۔اگر آپ چاہیں تو میرا یہ خط شائع کر سکتے ہیں۔فقط والسلام خاکسار مرزا بشیر احمد 14 جولائی 1960ء روزنامه الفضل ربوہ 24 جولائی 1960ء) حضرت سیٹھ عبد اللہ بھائی صاحب کے اوصاف حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے حضرت سیٹھ عبداللہ بھائی صاحب کی علالت کی اطلاع الفضل میں بھجواتے ہوئے آپ کے اوصاف کا ذکر یوں کیا۔حضرت سیٹھ صاحب کا وجود بہت مبارک ہے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں جو اخلاص اور جذبہ خدمت عطا کیا ہے وہ حقیقتاً قابل رشک ہے۔وہ اپنے اخلاص اور نیکی اور خدمات کی وجہ سے اس طبقہ میں شامل ہیں جنہیں خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں سابقون کے لفظ سے یاد کیا ہے۔یعنی جو بعد میں آتے ہیں اور اپنی نیکیوں اور قربانیوں کی وجہ سے آگے نکل جاتے ہیں۔احباب جماعت کا فرض ہے کہ انہیں اپنی خاص دعاؤں میں یا درکھیں۔مومنانہ اخوت کا یہ اولین فریضہ ہے جسے دوستوں کو کبھی نہیں بھولنا چاہئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ : مَنْ كَانَ فِي عَوْن أَخِيْهِ كَانَ اللَّهُ فِي عَوْنِهِ ( محررہ 23 جولائی 1960ء) روزنامه الفضل ربوہ 26 جولائی 1960 ء)