مضامین بشیر (جلد 4) — Page 97
مضامین بشیر جلد چهارم غالب کون ہوگا۔اشتراکیت یا اسلام؟ مسٹر خروشیف کا ساری دنیا کو چیلنج 97 آج کل اشترا کی روس کے وزیر اعظم مسٹر خروشیف خاص طور پر جوش میں آکر گرج اور برس رہے ہیں۔ہمیں ان کے سیاسی نعروں سے کوئی سروکار نہیں۔وہ جانیں اور ان کے مغربی حریف برطانیہ اور امریکہ۔گو طبعاً ہمیں مغربی ممالک سے زیادہ ہمدردی ہے کیونکہ ایک تو وہ ہمارے اپنے ملک پاکستان کے حلیف ہیں اور دوسرے جہاں برطانیہ اور امریکہ کم از کم خدا کی ہستی کے قائل ہیں وہاں روس نہ صرف کٹر قسم کا دہر یہ ہے بلکہ نعوذ باللہ خدا پر ہنسی اُڑاتا اور مذہب کے نام و نشان کو دنیا سے مٹانا چاہتا ہے۔لیکن اس وقت جو خاص بات میرے سامنے ہے وہ مسٹر خروشیف کا وہ اعلان ہے جو 7 جولائی 1960ء کے اخباروں میں شائع ہوا ہے۔اس اعلان میں مسٹر خروشیف اپنے مخصوص انداز میں دعوی کرتے ہیں کہ بہت جلد اشترا کی جھنڈ ا ساری دنیا پر لہرانے لگے گا اور اشتراکیت عالمگیر غلبہ حاصل کرے گی۔چنانچہ اس بارے میں اخباری رپورٹ کے الفاظ درج ذیل کئے جاتے ہیں۔آسٹریا 6 جولائی۔روسی وزیر اعظم مسٹر خروشیف نے منگل کے دن یہاں کہا ہے کہ مجھے کمیونسٹ ملک کے سوا کسی دوسرے ملک میں جا کر کوئی خوشی نہیں ہوتی۔آپ نے مزید کہا کہ میں ساری دنیا پر اشترا کی جھنڈا لہراتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں اور مجھے اس وقت تک زندہ رہنے کی خواہش ہے۔مجھے توقع ہے کہ میری اس خواہش کی تکمیل کا دن دور نہیں۔“ 66 (نوائے وقت لاہور 7 جولائی 1960 ء) خواہش کرنے کا ہر شخص کو حق ہے مگر ہم مسٹر خروشیف کو کھلے الفاظ میں بتا دینا چاہتے ہیں کہ انشاء اللہ تعالیٰ ان کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہو گی۔مسٹر خروشیف ضرور تاریخ دان ہوں گے اور انہوں نے لازماً تاریخ عالم کا مطالعہ کیا ہوگا۔کیا وہ ایک مثال بھی ایسی پیش کر سکتے ہیں کہ دنیا کے کسی حصہ میں اور تاریخ عالم کے کسی زمانہ میں توحید کے مقابلہ پر شرک یاد ہریت نے غلبہ پایا ہو؟ وقتی اور عارضی غلبہ کا معاملہ جدا گانہ ہے ( کیونکہ وہ نہر کے پانی کی اس ٹھوکر کا رنگ رکھتا ہے جس کے بعد پانی اور بھی زیادہ تیز چلنے لگتا ہے ) جیسا کہ حضرت سرور کائنات فجر رسل صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جنگ احد میں ہوا۔مگر لمبا یا مستقل غلبہ کبھی بھی تو حید کے سچے علمبرداروں کے مقابل پر دہریت اور شرک کی طاقتوں کو حاصل نہیں ہوا اور نہ انشاء اللہ کبھی ہو