مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 94 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 94

مضامین بشیر جلد چهارم 94 جس کی وجہ سے حضور فی الحال اس رنگ میں جماعت کی نگرانی اور ہدایت نہیں فرما سکتے جیسا کہ صحت کی حالت میں فرماتے تھے۔اور آپ لکھتے ہیں کہ حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کے متعلق تو خدا کی فلاں فلاں بشارات تھیں وغیرہ وغیرہ۔سواس کے متعلق یہ تو یا درکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کے پیدا کردہ جسمانی نظام کے ماتحت بیماری ہرانسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے اور کوئی شخص بھی اس سے مستی نہیں۔حتی کہ قرآن مجید نے بعض نبیوں کی بیماریوں اور جسمانی کمزوریوں کا بھی ذکر کیا ہے۔باقی رہ بشارات کا تعلق سو وہ خدا کے فضل سے پوری ہو چکی ہیں اور ہو رہی ہیں۔اور جس غیر معمولی رنگ میں حضرت خلیفہ اصسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی قیادت میں جماعت نے ترقی کی ہے اور دنیا کے چارا کناف میں اسلام پھیل رہا ہے اور ترقی کر رہا ہے وہ ظاہر وعیاں ہے۔مگر اصولی طور پر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ اسلام کامل توحید کا مذہب ہے اور اسلام کا خدا مختلف صورتوں میں مومنوں کو تو حید کا سبق دیتا رہتا ہے۔چنانچہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو کائنات عالم کا مرکزی نقطہ تھے فوت ہوئے اور آپ کا وہ مقام تھا کہ آپ کو خدائے عرش نے مخاطب کر کے فرمایا کہ لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاك۔اور آپ کی وفات بھی بظاہر بے وقت سمجھی گئی حتی کہ حضرت عمر جیسے انسان کو بھی عارضی طور پر لغزش آگئی۔اس وقت حضرت ابو بکر نے جو بلا ریب افضل الصحابہ تھے یہ فولادی نوعیت کے الفاظ فرمائے کہ: أَلَا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَى لَا يَمُوتُ۔(بخاری کتاب المناقب باب قول عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم ) یعنی جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں مگر جو شخص خدا کا پرستار ہے وہ تسلی رکھے کہ خدا زندہ ہے اور اس پر کبھی موت نہیں آئے گی۔اس طرح جب حضرت عمرؓ نے دیکھا کہ لوگوں میں حضرت خالد کی غیر معمولی فتوحات کی وجہ سے ایک گونه مخفی شرک کے خیالات پیدا ہور ہے ہیں تو آپ نے حضرت خالد کو فوراً معزول کر کے مسلمانوں کو کچی تو حید کا سبق دیا۔پس مکرم مولوی صاحب آپ کے لئے بھی ان واقعات میں ایک عبرت ہے اور خدا چاہتا ہے کہ آپ کامل توحید کے دامن کو مضبوطی سے پکڑیں۔یہ بات میں نے صرف اصولی رنگ میں لکھی ہے ورنہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے بلند مقام کو خوب پہچانتا ہوں۔اور یہ بات تو ہم سب جانتے ہیں کہ حضور خدا کے فضل سے زندہ سلامت ہیں اور جماعت کے لئے دعا ئیں فرمارہے ہیں اور کبھی کبھی اپنی ہدایات سے بھی نوازتے ہیں۔اور جماعت بھی شب وروز حضور کے لئے دعائیں کر رہی ہے۔