مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 88 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 88

مضامین بشیر جلد چهارم 88 حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے دستبرداری کا مطالبہ آپ کی خلافت کے استحکام اور تمکنت کے بعد تھا اور باغیوں کی طرف سے تھا۔اور پھر یہ مطالبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے صریح خلاف تھا۔پس فرق ظاہر ہے۔فَافُهُمْ وَ تَدَبَّرُ وَلَا تَكُنْ مِنَ الْمُمْتَرِينَ - فقط والسلام خاکسار مرزا بشیر احمد ( محررہ 11 جولائی 1960 ء) مقبرہ بہشتی کا حقیقی مقام ( روزنامہ الفضل 27 جولائی 1960 ء) دینداری اور قربانی کی شرط پوری کرنے والا خدا کے فضل سے یقینا جنتی ہے لاہور سے اطلاع ملی ہے کہ ایک صاحب نے جو مخلص اور دیندار ہونے کے باوجود جلد بازی میں ذاتی ریمارک پاس کرنے کے عادی ہیں ایک ایسے شخص کے متعلق جو فوت ہو کر مقبرہ بہشتی میں دفن ہو چکا ہے دوران گفتگو میں اس قسم کے ریمارک کئے کہ اس میں یہ یہ عیب تھا۔اور جب حاضر الوقت اصحاب میں سے ایک شخص نے انہیں ٹوکا کہ ایسے فوت شدہ شخص کے خلاف اس قسم کے ریمارک کرنا جو فوت ہو کر مقبرہ بہشتی میں دفن ہو چکا ہے بہت نا مناسب اور خلاف تعلیم اسلام اور خلاف تعلیم احمدیت ہے تو کہا جاتا ہے ( وَاللهُ اَعْلَمُ ) کہ ان صاحب نے حسب عادت جلدی سے فرمایا کہ اگر وہ مقبرہ بہشتی میں دفن ہو چکا ہے تو پھر کیا ہوا وہ کبھی بھی اپنے فلاں فلاں عیب کی وجہ سے بخشا نہیں جائے گا وغیرہ وغیرہ۔اگر یہ رپورٹ درست ہے ( اور میں یہ بات اگر کے الفاظ کے ساتھ کہہ سکتا ہوں ) تو نہ صرف اخلاقا اور شرعاً بہت قابلِ اعتراض ہے بلکہ نظام وصیت کی بشارات ربانیہ کے بھی قطعی طور پر خلاف اور سخت قابلِ ملامت ہے۔کیونکہ اول تو حدیث میں ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کا صریح ارشاد ہے کہ: اذْكُرُوا مَوْتَاكُمُ بِالْخَيْر یعنی اے مومنو! تم اپنے فوت ہونے والے بھائیوں اور بہنوں کا ذکر ہمیشہ خیر کے رنگ میں کیا کرو۔اور اگر بالفرض ان میں کوئی کمزوری بھی تھی تو اسے حوالہ بخدا کرتے ہوئے اس کے ذکر سے اجتناب کرو۔