مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 86 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 86

مضامین بشیر جلد چهارم 20 ایک نو جوان کے دوسوالوں کا جواب 86 کیا ابو جہل کا یہ لقب لَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ کے خلاف نہیں؟ جب حضرت عثمان نے خلافت سے دستبر داری سے انکار کیا تو حضرت امام حسن کیوں اس پر رضامند ہو گئے؟ ( کراچی کے ایک نوجوان میاں عبدالمجید صاحب ناصر نے اپنے ایک خط میں دوسوال لکھ کر بھجوائے ہیں۔ان سوالوں کا مختصر سا اصولی جواب دوسرے دوستوں کے فائدہ کے لئے ذیل میں شائع کیا جاتا ہے۔) مکرم ومحترم عبدالمجید صاحب ناصر۔کراچی السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ آپ کا خط موصول ہوا۔اگر آپ سوچنے کی عادت ڈالیں تو آپ کو ان چھوٹے چھوٹے مسائل میں پوچھنے کی ضرورت محسوس نہ ہو بلکہ آپ خود ہی انہیں حل کر لیا کریں اور آپ کے علم میں بھی اضافہ ہو۔ہم اپنے نو جوانوں سے یہی توقع رکھتے ہیں۔بہر حال بہت مختصر طور پر بلکہ صرف اشارہ کے رنگ میں لکھتا ہوں۔(1) پہلا سوال آپ کا یہ ہے کہ جب ابو جہل کا اصل نام اور تھا تو پھر لَا تَنَابَزُوا بالالقاب (الحجرات: 12) کے قرآنی حکم کے خلاف اس کا نام ابو جہل کیوں رکھا گیا ؟ سو اس کے متعلق یہ جاننا چاہئے کہ ابو جہل کیونکہ ایک عظیم الشان رسول بلکہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں کھڑا ہوا تھا اور اس نے آپ کی مخالفت کو انتہا تک پہنچا دیا تھا۔اور یہ مخالفت بھی حد درجہ مکروہ قسم کی نہایت جاہلانہ طریق کی تھی۔اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور صحابہ نے خدائی منشاء کے ماتحت اس کا نام ابو جہل رکھا۔جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ گویا جہالت کا باپ ہے۔یعنی جہالت میں انتہا تک پہنچا ہوا ہے اور اس میدان میں گویا نا پاک بچے پیدا کر رہا ہے۔اور یہ نام کوئی طعنہ نہیں تھا بلکہ اس کی حالت کے عین مطابق تھا۔کیونکہ وہ اپنی ناپاک مخالفت اور جہالت اور فسادی کا رروائیوں میں تمام اخلاقی اور انسانی حدود سے تجاوز کر گیا تھا اور اسے امن اور انصاف اور دیانتداری کا کوئی پاس نہیں رہا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ خدا کے عظیم الشان رسول تھے اور تمام صحابہ آپ کے ساتھ اور آپ کے ہم نوا اور تابع تھے اس لئے آپ کا یہ فیصلہ گویا ایک خدائی حج کا فیصلہ تھا اور بالکل حقیقت پر