مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 85 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 85

۔۔۔۔۔۔مضامین بشیر جلد چهارم 85 (7) یہ خیال کہ مکہ مکرمہ کی رؤیت کے مطابق عید منانے (7) جب اس زمانہ میں ٹیلی فون اور ریڈیو اور تار میں کامل اور عالمگیر یک جہتی پیدا ہو جائے گی پھر بھی غلط اور وائرلیس کے ذریعہ اطلاعات کے ذرائع دنیا ہوگا۔کیونکہ جغرافیہ دان جانتے ہیں کہ ہر علاقہ کے طلوع بھر میں بے حد وسیع ہو گئے ہیں۔اور یہ سب چیزیں آفتاب اور غروب آفتاب نصف النہار کے وقت خدا تعالیٰ کی غیر معمولی نعمتیں ہیں جو قرآنی آیت میں لازماً فرق ہوتا ہے۔پس بظاہر ایک دن میں عید مناتے وَاَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا (الزلزال : 3 ) ہوئے بھی مختلف علاقوں میں کچھ نہ کچھ فرق بہر حال رہے کے ماتحت ظاہر ہوئی ہیں تو ان سے فائدہ اٹھانا گا۔یعنی کہیں صبح ہوگی اور کہیں دو پہر ہو گی اور کہیں شام چاہئے اور ان سے فائدہ نہ اٹھانا ایک گونہ کفرانِ ہوگی اور امریکہ وغیرہ میں تو دن ہی بدل جائے گا۔تو اس نعمت میں داخل ہوگا وغیرہ وغیرہ۔صورت میں یک جہتی اور عالمگیر صورت پھر بھی قائم نہیں رہتی۔اور مکہ مکرمہ کی رؤیت کی مطابقت کی کوشش عملاً ہے سود ہو جاتی ہے۔(۸) ریڈیو اور تار اور ٹیلی فون کی سہولت کے باوجود ہر گاؤں اور بستی میں لازماً مکہ مکرمہ کی رؤیت کا علم ہو جانا ممکن نہیں ہے اور افتراق اور اختلاف پھر بھی رہے گا۔بلکہ پریشانی بڑھ جائے گی اور سہولت عامہ کا شرعی اصول بھی ٹوٹ جائے گا وغیرہ وغیرہ۔اس بات کے اظہار میں غالباً کوئی حرج نہیں کہ یہ خاکسار ابھی تک اس معاملہ میں کوئی قطعی رائے قائم نہیں کرسکا۔گو میرا طبعی اور غالب رجحان رائج طریق اور قدیم سنت کو قائم رکھنے کی طرف ہے۔اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں شریعت کا بھی یہی منشاء معلوم ہوتا ہے۔مگر بہر حال جب ایک سوال پیدا ہوا ہے تو اس کے متعلق تحقیق ہونی چاہئے۔میں نے یہ چند سطور علالت کی حالت میں بڑی مشکل سے لکھی ہیں۔کیونکہ چند دن سے ہیٹ سٹروک اور بعض دوسرے عوارض کی وجہ سے کمزوری بڑھ گئی ہے اور تحریر کے وقت ہاتھ کانپتا ہے۔دوست دعا فرما ئیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اسلام اور احمدیت کی قلمی خدمت سے زندگی بھر محروم نہ ہونے دے۔کیونکہ بظاہر میری یہ حقیر سی خدمت میرا سرمایہ حیات ہے اور وہ بھی محض خدا کے فضل و توفیق سے۔ورنہ دوسرے اعمال کے لحاظ سے تو خدائے عفو و غفور کی ستاری ہی ستاری ہے اور بس۔(محرره 16 جون 1960ء) (روز نامہ الفضل 21 جون 1960ء)