مضامین بشیر (جلد 4) — Page 84
84 مضامین بشیر جلد چهارم (4) اگر مکہ مکرمہ کی رؤیت کی بناء پر تمام دنیا میں عید الاضحی (4) حج میں تمام عالم اسلامی کے نمائندے جمع منائی جائے تو اس کے نتیجہ میں مختلف ملکوں کے قمری حساب ہوتے ہیں اس لئے بھی اس عالمگیر عبادت اور اس میں سخت رخنہ پیدا ہو جائے گا۔اور صرف عید کی تاریخ ہی کے تتمہ ( یعنی عید الاضحی ) میں ہم آہنگی اور تطابق نہیں بدلے گی بلکہ چاند کی ساری تاریخیں بدل جائیں گی ضروری ہے۔اور ایک غیر قدرتی نظام قائم ہو جائے گا۔(5) آج تک گزشتہ چودہ سوسال میں تمام اسلامی دنیا اپنے (5) حج کی اصل تاریخ میں جو توجہ اور شوق و ذوق اپنے علاقہ کی رؤیت کی بنیاد پر عیدالاضحی مناتی آئی ہے اور اور انہماک دعاؤں میں ہو سکتا ہے (خواہ لوگ اپنی اس کے خلاف کوئی ایک مثال بھی نہیں ملتی کہ علاقائی رؤیت اپنی جگہ پر ہی دعائیں کریں ) وہ طبعا کسی دوسری کو ترک کر کے مکہ مکرمہ کی رؤیت پر بنیاد رکھی گئی ہو۔اور تاریخ میں نہیں ہو سکتا اس لئے بھی مکہ مکرمہ کے چودہ سو سال کی متواتر سنت کو ترک کرنا بدعت اور فتنہ کا رستہ ساتھ مطابقت مقدم ہے۔کھولتا ہے۔(6) یہ احساس کہ حج کا دن خاص دعاؤں کا دن ہے اور (6) عید الاضحیٰ کے معاملہ میں مکہ مکرمہ کی رؤیت تاریخیں مختلف ہونے کی صورت میں ان دعاؤں میں کی مطابقت اختیار کرنے میں جو رخنہ چاند کی عالمگیر یک جہتی اور خاص توجہ باقی نہیں رہتی بظاہر کسی حد تک تاریخوں میں پیدا ہوتا ہے اس کے متعلق کہا جاتا قابل توجہ نظر آتا ہے۔مگر اس کا حل آسانی سے ہو سکتا ہے کہ ہے کہ وہ کسی دوسرے طریق پر باہم سمجھوتے سے جہاں جہاں مکہ مکرمہ کا یوم الجھ معلوم ہو جائے وہاں کے درست کیا جاسکتا ہے۔گو دوسرے طریق کی مطابق اس دن بھی مسلمان اپنی اپنی جگہوں پر دعائیں تفصیل نہیں بتائی جاتی۔کریں۔کیونکہ غیر حاجی بہر حال اپنی اپنی جگہ ہی دعائیں کر سکتے ہیں۔اور تمام صلحاء امت اسی طرح کرتے آئے ہیں اور یہ عاجزہ بھی اسی پر عامل رہا ہے۔اس طرح یک جہتی بھی رہتی ہے اور قمری نظام کے معاملہ میں بھی کوئی رخنہ نہیں پیدا ہوتا۔اس صورت میں بیشک دوسرے مسلمان اپنی رؤیت کے مطابق بھی ذوالحجہ کی نہم تاریخ کو دعائیں کریں۔کیونکہ دعاؤں کی تکرار میں کوئی حرج نہیں بلکہ برکت ہی برکت ہے اور توجہ کا جمانا اور انہماک پیدا کرنا تو بہر حال دعا کرنے والے کی اپنی ذہنیت پر منحصر ہے۔ورنہ توجہ نہ جمانے والے لوگ تو حج سے بھی خالی ہاتھ لوٹ آتے ہیں۔