مضامین بشیر (جلد 4) — Page 80
مضامین بشیر جلد چهارم 80 ہوتی ہے۔اور چونکہ ایک انسان کی عمر بہر حال محدود ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ نبی کے ہاتھ سے صرف تخم ریزی کا کام لیتا ہے اور اس تخمریزی کو انجام تک پہنچانے کے لئے نبی کے وفات کے بعد اس کی جماعت میں سے قابل اور اہل لوگوں میں یکے بعد دیگرے اس کے جانشین بنا کر اس کے کام کی تکمیل فرماتا ہے۔یہ جانشین اسلامی اصطلاح میں خلیفہ کہلاتے ہیں کیونکہ خلیفہ کے معنے پیچھے آنے والے اور دوسرے کی جگہ قائم مقام بننے والے کے ہیں۔یہ سلسلہ خلافت قدیم زمانہ سے ہر نبی کے بعد ہوتا چلا آیا ہے۔چنانچہ حضرت موسی کے بعد یوشع خلیفہ ہوئے اور حضرت عیسی کے بعد پطرس خلیفہ ہوئے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر خلیفہ ہوئے۔بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ سلسلہ خلافت تمام سابقہ نبیوں کی نسبت زیادہ شان اور زیادہ آب و تاب کے ساتھ ظاہر ہوا۔اس نظام خلافت میں نبی کے کام کی تکمیل کے علاوہ ایک حکمت یہ بھی مد نظر ہوتی ہے کہ تاجودھکا نبی کی وفات کے وقت نبی کی نئی نئی جماعت کو لگتا ہے جو ایک ہولناک زلزلہ سے کم نہیں ہوتا۔اس میں جماعت کو سنبھالنے کا انتظام ہے۔خلفاء کے تقرر اور ان کے مقام کے متعلق اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ خلافت کا منصب کسی صورت میں بھی ورثہ میں نہیں آ سکتا۔بلکہ یہ ایک مقدس امانت ہے جو مومنوں کے انتخاب کے ذریعہ جماعت کے قابل ترین شخص کے سپرد کی جاتی ہے اور چونکہ نبی کی جانشینی کا مقام ایک نہایت نازک اور اہم روحانی مقام ہے۔اس لئے اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ گو بظاہر خلیفہ کا انتخاب لوگوں کی رائے سے ہوتا ہے مگر اس معاملہ میں خدا تعالیٰ خود آسمان سے نگرانی فرماتا ہے اور اپنے تصرف خاص سے لوگوں کی رائے کو ایسے رستہ پر ڈال دیتا ہے جو اس کے منشاء کے مطابق ہو۔اس طرح گو بظاہر خلیفہ کا تقرر انتخاب کے ذریعہ عمل میں آتا ہے مگر دراصل اس انتخاب میں خدائی مخفی تقدیر کام کرتی ہے اور اسی لئے خدا نے خلفاء کے تقرر کو خود اپنی طرف منسوب کیا ہے اور فرمایا ہے کہ خلیفہ ہم خود بناتے ہیں۔یہ ایک نہایت لطیف روحانی انتظام ہے جسے شاید دنیا کے لوگوں کے لئے سمجھنا مشکل ہو۔مگر حقیقت یہی ہے کہ خلیفہ کا تقرر ایک طرف تو مومنوں کے انتخاب سے اور دوسری طرف خدا کی مرضی کے مطابق ظہور پذیر ہوتا ہے۔اور خدائی تقدیر کی مخفی تاریں لوگوں کے دلوں کو پکڑ پکڑ کر منظو را ایزدی کی طرف مائل کر دیتی ہے۔پھر جب ایک شخص خدائی تقدیر کے ماتحت خلیفہ منتخب ہو جاتا ہے تو اس کے متعلق اسلام کا حکم یہ ہے کہ تمام مومن اس کی پوری پوری اطاعت کریں۔اور خود اس کے لئے یہ حکم دیا ہے کہ وہ تمام اہم اور ضروری امور میں مومنوں کے مشورہ سے کام کرے اور گووہ مشورہ پر عمل کرنے کا پابند نہیں۔بلکہ اگر مناسب خیال کرے تو مشورہ کو رڈ کر کے اپنی رائے سے جس طرح چاہے