مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 58 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 58

مضامین بشیر جلد چهارم 58 لہذا مخلص دوستوں کو چاہئے کہ اس رسالہ کے چھپنے پر اسے نہ صرف زیادہ سے زیادہ اپنی جماعت کے دوستوں میں اخلاقی اور روحانی خیال سے تربیت کے لئے تقسیم کریں بلکہ دوسرے مسلمانوں میں بھی کثرت کے ساتھ اس کی اشاعت کا انتظام کریں۔تا کہ اس ذریعہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور جماعت احمدیہ کے متعلق غیر از جماعت لوگوں کی غلط فہمیاں اور بدگمانیاں دور ہوں اور ملک میں پرامن فضا کا رستہ کھلے۔یہ رسالہ ملک فضل حسین صاحب مالک احمدیہ کتابستان ربوہ چھپوا ر ہے ہیں۔اس لئے جو دوست اور جماعتیں اس رسالہ کی خریداری اور اس کی تقسیم میں حصہ لے کر ثواب کمانا چاہیں انہیں چاہئے کہ جلد سے جلد اپنے آرڈر ملک صاحب موصوف کو بھجوا کر مطلوبہ نسخے اپنے لئے ریز رو کروالیں۔اس رسالہ کے آخر میں حضرت اماں جان رضی اللہ عنہ کی سیرۃ پر بھی ایک مختصر سا نوٹ بڑھا دیا گیا ہے تا که احمدی مستورات اس سے مخصوص فائدہ اٹھا سکیں۔اس سارے رسالے کا حجم 112 صفحات ہے۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اس رسالہ کی اشاعت خدا کے فضل سے مفید اور بابرکت ثابت ہوگی۔قیمت کے متعلق ملک صاحب بتاسکیں گے یہ خاکسار تو صرف ثواب کے پہلو میں حصہ دار ہے۔مالی پہلو سے میرا کوئی تعلق نہیں۔( محررہ 6 مارچ 1960ء) (روز نامه الفضل ربوہ 10 مارچ 1960ء) اسلام اور احمدیت کی ترقی کی دعائیں اس سال اپنی بیماری کی وجہ سے خاکسار نہ تو رمضان کی برکات کے متعلق کوئی تفصیلی مضمون لکھ سکا ہے اور نہ ہی دعاؤں کی کوئی خاص تحریک کر سکا ہے۔آج رمضان کی اٹھائیس (28) تاریخ ہے اور کل انشاء اللہ تعالیٰ انیسویں تاریخ ہو گی جو غالباً موجودہ رمضان کی آخری تاریخ ہوگی اور پھر یہ رات بھی طاق رات ہوگی۔جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق خاص طور پر بابرکت راتوں میں شمار ہوتی ہے۔پس میں اس مختصر سے نوٹ کے ذریعہ دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ رمضان کے اس آخری حصہ میں اسلام اور احمدیت کی ترقی کے لئے خاص طور پر دعائیں کریں۔تا کہ اللہ تعالیٰ صداقت کے دائمی اور عالمگیر غلبہ کا دن جلد تر لے آئے۔آخر ہم کب تک رینگتے رہیں گے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام ہے کہ: