مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 54 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 54

مضامین بشیر جلد چهارم اقوام فی الدین کا موجب بن جائے۔مجھے حافظ شیرازی کا یہ شعر بہت پسند ہے کہ: ہرگز نہ میرد آنکه دلش زنده شد بعشق ثبت است بر جریده عالم دوام ما 54 پس میں جماعت کے نوجوانوں کو بڑے دردِ دل کے ساتھ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ مرنے والوں کی جگہ لینے کے لئے تیاری کریں۔اور اپنے دلوں میں ایسا عشق اور خدمت دین کا ایساولولہ پیدا کریں کہ نہ صرف جماعت میں کوئی خلا نہ پیدا ہو بلکہ ہمارے آقا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کے طفیل جماعت کی آخرت اس کی اولیٰ سے بھی بہتر ہو۔یقیناً اگر ہمارے نوجوان ہمت کریں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے اس مقصد کا حصول ہرگز بعید نہیں۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ خدا کا یہ وعدہ ہے جو حضور نے ان شاندار لفظوں میں بیان فرمایا ہے کہ: خدا تعالیٰ نے مجھے بار بار خبر دی ہے۔۔کہ میرے فرقہ کے لوگ اس قدر علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے کہ اپنی سچائی کے نور اور اپنے دلائل اور نشانوں کے رو سے سب کا منہ بند کر دیں گے۔اور ہر ایک قوم اس چشمہ سے پانی پئے گی اور یہ سلسلہ زور سے بڑھے گا اور پھولے گا یہاں تک کہ زمین پر محیط ہو جاوے گا تجلیات الہیہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 409) خدا کرے کہ ہم اور ہماری اولادیں اس عظیم الشان بشارت سے حصہ پائیں اور اسلام اور احمدیت کا جھنڈا دنیا میں بلند سے بلند تر ہوتا چلا جائے۔یاد رکھو کہ ایسی زندگی چنداں شاندار نہیں سمجھی جا سکتی کہ انسان ایک بلبلہ کی طرح اٹھے اور پھر بیٹھ جائے اور ساٹھ ستر سال کی عمر میں اس کی فعال زندگی کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو جائے۔بلکہ اصل شان اس میں ہے کہ انسان کی جسمانی موت کے بعد بھی اس کے آثار اس کی اولاد اور اس کے شاگردوں اور اس کے دوستوں اور اس کے عزیزوں اور اس کے علمی اور عملی کارناموں کے ذریعہ روشن جواہرات کی طرح جگمگاتے رہیں۔قرآن نے کیا خوب فرمایا ہے کہ : وَالْبَقيتُ الصَّلحتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَيْرٌ أَمَلاً (الكهف : 47) پس: