مضامین بشیر (جلد 4) — Page 532
مضامین بشیر جلد چهارم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی محبت وعشق کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔جان و دلم فدائے جمال محمد است خاکم نثار کوچه آل محمد است دیدم بعین قلب و شنیدم بگوش ہوش در هر مکان ندائے جمال محمد است 532 یعنی میرے جان و دل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن خدا داد پر قربان ہیں اور میں آپ کے آل و عیال کے کوچہ کی خاک پر شار ہوں۔میں نے اپنے دل کی آنکھ سے دیکھا اور ہوش کے کانوں سے سنا ہے کہ ہر کون و مکان میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے جمال کی ندا آ رہی ہے۔پھر فرماتے ہیں۔بعد از خدا بعشق محمدم محمرم گر کفر این بود بخدا سخت کافرم جانم فدا شود مصطف بره دین این است کامِ دل اگر آید میسرم یعنی خدا سے اتر کر میں محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کی شراب میں متوالا ہورہا ہوں۔اور اگر یہ بات کفر میں داخل ہے تو خدا کی قسم میں سخت کا فر ہوں۔میرے دل کا واحد مقصد یہ ہے کہ میری جان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے رستے میں قربان ہو جائے۔خدا کرے مجھے یہ مقصد حاصل ہو جائے۔پھر فرماتے ہیں۔وہ پیشوا ہمارا جس ނ ہے نور سارا نام اس کا ہے محمد دلبر مرا یہی ہے اس نور پر فدا ہوں اس کا ہی میں ہوا ہوں وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے وہ دلبر یگانہ علموں کا خزانه ہے باقی ہے سب فسانہ سچ بے خطا یہی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت مسیح موعود کی محبت محض کاغذی یا نمائشی محبت نہ تھی بلکہ آپ کے ہر قول وفعل اور حرکت و سکون میں اس کی ایک زندہ اور زبردست جھلک نظر آتی تھی۔چنانچہ پنڈت