مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 30 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 30

مضامین بشیر جلد چهارم 30 اسلام کی خاص خدمت سر انجام دی ہے۔آئندہ ہماری مدافعت کا سلسلہ خواہ کسی درجہ تک وسیع ہو جائے ناممکن ہے کہ مرزا صاحب کی یہ تحریر میں نظر انداز کی جاسکیں۔“ اخبار وکیل امرتسر جون 1908ء) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ بے مثال قلمی جہاد جو آپ نے اسلام کی صداقت اور قرآن کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے عمر بھر کیا وہ بے شک بظاہر علمی نوعیت کا تھا اور بادی النظر میں اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کے پہلو سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔مگر غور کیا جائے تو اسلام کو رسول پاک سے اور رسولِ پاک کو اسلام سے کسی طرح جدا نہیں کیا جاسکتا۔پس دراصل یہ ساری خدمت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق اور آپ کے لائے ہوئے دین کے ساتھ والہانہ محبت ہی کا کرشمہ تھی۔یہی وجہ ہے کہ اپنی ان عدیم المثال خدمات کے باوجود جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو ایک وفا شعار شاگرد اور ایک احسان مند خادم کی حیثیت میں اپنا ہر پھول آپ کے قدموں میں ڈالتے چلے جاتے ہیں۔اور بار بارعاجزی کے ساتھ عرض کرتے ہیں کہ آقا ! یہ سب کچھ آپ ہی کے طفیل ہے میرا تو کچھ بھی نہیں۔چنانچہ ایک جگہ فرماتے ہیں: میں اسی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جیسا کہ اس نے ابراہیم سے مکالمہ مخاطبہ کیا اور پھر اسحق سے اور اسمعیل سے اور یعقوب سے اور یوسف سے اور موسٹی سے اور مسیح ابن مریم سے اور سب سے بعد ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا ہم کلام ہوا کہ آپ پر سب سے زیادہ روشن اور پاک وحی نازل کی۔ایسا ہی اس نے مجھے بھی اپنے مکالمہ مخاطبہ کا شرف بخشا مگر یہ شرف مجھے محض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے حاصل ہوا۔اگر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت نہ ہوتا اور آپ کی پیروی نہ کرتا تو اگر دنیا کے تمام پہاڑوں کے برابر میرے اعمال ہوتے تو پھر بھی میں کبھی یہ شرف مکالمہ مخاطبہ ہرگز نہ پاتا۔“ وہ پیشوا تجلیات الہیہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 411-412) ایک اور جگہ اپنی ایک نظم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں متوالے ہو کر فرماتے ہیں: ہمارا جس سے ہے نور سارا نام اس کا ہے محمد دلبر میرا یہی ہے اُس نور پر فدا ہوں اس کا ہی میں ہوا ہوں وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے ( قادیان کے آریہ اور ہم )