مضامین بشیر (جلد 4) — Page 453
مضامین بشیر جلد چہارم 453 دنیا میں کوئی نیا سلسلہ قائم کرنا ہوتا ہے تو اس وقت اس کی سنت یہ ہے کہ وہ کسی جلالی مصلح کو مبعوث فرماتا ہے جو اپنی پختہ تنظیم اور مضبوط نظم و نسق کے ذریعہ ایک نئی جماعت کی بنیا درکھ کر اسے خدا کی نازل کردہ جدید شریعت پر قائم کر دیتا ہے جس کے لئے کسی نہ کسی رنگ میں حکومت کے نظام کی ضرورت ہوتی ہے۔مگر جب کسی نئی شریعت کا نزول مقصود نہیں ہوتا بلکہ صرف سابقہ شریعت کی خدمت اور بگڑے ہوئے عقائد کی اصلاح اور قوم کی روحانی اور اخلاقی تربیت اصل غرض و غایت ہوتی ہے تو ایسے وقت میں جمالی مصلح مبعوث کیا جاتا ہے جو محبت اور نصیحت اور فروتنی اور تربیت اور اصلاحی پروگرام کے ذریعہ اپنا کام کرتا ہے مگر بہر حال دعاؤں اور معجزات کا سلسلہ دونوں نظاموں میں یکساں جاری رہتا ہے کیونکہ یہی دو چیزیں ہر روحانی نظام کی جان ہیں۔حضرت موسی جلالی شان کے ساتھ ظاہر ہوئے اور ان کے چودہ سو سال بعد خدائی پیشگوئی کے مطابق حضرت عیسی نے جمالی شان کے ساتھ فروتنی کے لباس میں ظہور کیا۔اسی طرح ہمارے آقا آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم (فدا نفسی ) جلالی شان کا جبہ زیب تن کئے ہوئے جاہ و حشمت کے ساتھ منظر عام پر آئے اور آپ کے چودہ سو سال بعد آپ کی پیشگوئی کے مطابق آپ کے شاگرد اور خادم حضرت مسیح محمدی نے اپنے سفید جھنڈے کے ساتھ جمالی شان میں آسمانِ ہدایت سے نزول کیا۔وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ صِدْقاً وَّ عَدْلًا۔7 جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام جمالی مصلح تھے جو اُسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت میں مبعوث کئے گئے جس طرح کہ اسرائیلی سلسلہ میں حضرت موسی کے بعد حضرت عیسی جمالی رنگ میں ظاہر ہوئے۔یہ درست ہے کہ جب کسی روحانی مصلح کو جمالی یا جلالی کہا جاتا ہے تو اس سے ہرگز یہ مراد نہیں ہوتی کہ اس کی ہر بات جمالی یا جلالی شان رکھتی ہے بلکہ اس کی طبیعت اور اس کے طریق کار کے غالب رجحان کی وجہ سے اسے جمالی یا جلالی کا نام دیا جاتا ہے۔ورنہ حق یہ ہے کہ ظل الله یعنی خدا کے نائب ہونے کی حیثیت میں ہر روحانی مصلح میں ایک حد تک جلالی اور جمالی دونوں شانیں پائی جاتی ہیں۔مگر جس مصلح میں خدائی مشیت اور زمانہ کے تقاضے کے ماتحت جلالی شان کا غلبہ ہو، اسے اصطلاحی طور پر جلالی مصلح قرار دیا جاتا ہے اور ایسے مصلح عمو مانئی شریعت کے قیام یا کسی زبر دست نئی تنظیم کے استحکام کے لئے آتے ہیں۔دوسری طرف جس روحانی مصلح میں جمالی شان کا غلبہ ہوتا ہے اسے جمالی مصلح کا نام دیا جاتا ہے گوجیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ظل الله یا کامل عبد ہونے کی وجہ سے اس میں بھی کبھی کبھی جلالی شان کی جھلک پیدا ہو جاتی ہے مگر اس کے مقام کا مرکزی نقطہ بہر حال جمالی رہتا ہے۔جلالی اور جمالی شانوں