مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 411 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 411

مضامین بشیر جلد چهارم 411 جونشو ونما کی طاقتوں کے لحاظ سے بہترین دور سمجھا جاسکتا ہے۔پس انہیں اپنے اس دور کی قدر کرنی چاہئے اور اپنی ان طاقتوں کو بہترین صورت میں استعمال کر کے ترقی کے رستہ پر ڈالنا چاہئے جو خالق فطرت نے ان کے اندر ودیعت کر رکھی ہیں۔موٹر پاور اور بر یک میں ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ انسان کی ترقی کے لئے دو قسم کی طاقتیں ضروری ہیں۔ایک آگے بڑھنے کی بے پناہ طاقت جسے انگریزی میں ”موٹر پاور کہتے ہیں اور دوسری غلط راستے پر پڑتے وقت رُک جانے کی طاقت ہے جسے انگریزی میں بریک کہتے ہیں۔جو انجن ان دو طاقتوں میں سے کسی ایک سے محروم ہو گا وہ یا تو چلنے سے ہی انکار کر دے گا۔اور کسی کھڑ میں گر کر یا کسی چٹان سے ٹکرا کر تباہ ہو جائے گا۔قرآن مجید نے اور رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے اقوال نے اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات نے ہمارے لئے ان دونوں طاقتوں کو بصورت احسن مہیا فرما دیا ہے پس جس وقت یہ حکم ہوتا ہے کہ چلو اور آگے بڑھو تو اس وقت جماعت کا یہ کام ہے کہ چلے اور آگے بڑھے اور جب یہ حکم ہوتا ہے کہ رک جاؤ یا ایک طرف کو گھوم جاؤ تو اس وقت جماعت کا یہ کام ہوتا ہے کہ رک جائے یا ایک طرف کو گھوم جائے۔اس صورت میں اگر کوئی خادم صرف اندھی موٹر پاور پر اپنے کام کی بنیاد رکھنا چاہتا ہے تو وہ یقیناً ٹھوکر کھائے گا۔اور اگر کوئی خادم اپنی طاقتوں کو بریک ہی لگائے رکھتا ہے تو وہ مفلوج ہو کر رہ جائے گا۔انسانی ترقی کا رازان ہی دونوں طاقتوں کے صحت مندانہ توازن پر موقوف ہے اور تمام خدام کو یہ نکتہ ہر وقت مد نظر رکھنا چاہئے۔درس گاہ سے نکلنے کے بعد بھی تعلیم جاری رہتی ہے آپ لوگوں میں سے کافی تعداد ایسے نوجوانوں کی ہوگی جو ابھی سکولوں اور کالجوں میں تعلیم پارہے ہیں۔انہیں اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہونا چاہئے کہ تعلیم پانے کا زمانہ صرف درسگاہوں کی چاردیواری تک محدود ہے۔حق یہ ہے کہ درس گاہیں تو صرف علم کے دروازے تک پہنچاتی ہیں۔اس کے آگے علم کا ایک بہت وسیع میدان ہے۔ایسا وسیع جس کی کوئی حدو انتہا نہیں۔اس میدان میں انسان سکول اور کالج سے فارغ ہونے کے بعد خود اپنی کوشش اور اپنی آنکھوں اور کانوں کو کھلا رکھنے کے ذریعہ علم حاصل کرتا ہے۔پس درسگاہوں سے فارغ ہونے کے بعد بھی تحصیل علم کا سلسلہ جاری رکھو اور ضرور جاری رکھو کیونکہ یہ وہ علم ہے جو درسگا ہوں میں حاصل ہونے والے علم سے بہت زیادہ وزن رکھتا ہے۔ہمارے آقا صلے اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے