مضامین بشیر (جلد 4) — Page 350
مضامین بشیر جلد چهارم 350 یعنی بیماری یا سفر کی حالت دور ہونے پر انہیں چاہئے کہ دوسرے دنوں میں اپنے روزوں کی گنتی کو پورا کریں اور خدائی حساب میں فرق نہ آنے دیں۔اگر فدیہ دینے والوں کے قرب و جوار میں غریب لوگ موجود ہوں جو فدیہ کے مستحق سمجھے جائیں تو انہیں فدیہ دینا بہتر ہے کیونکہ اس میں فدیہ کے ثواب کے علاوہ ہمسایگیت کے حق کا ثواب بھی ملتا ہے۔وَ أَنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ۔محررہ 27 جنوری 1962ء) (روزنامه الفضل ربوہ یکم فروری 1963ء) حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مشابہت عزیز میاں شریف احمد صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ بعض لحاظ سے خاص مشابہت تھی۔یہ مشابہت جسمانی نوعیت کے لحاظ سے بھی تھی اور اخلاقی اور روحانی لحاظ سے بھی تھی۔جسمانی لحاظ سے تو ان کا نقشہ اور خدو خال اور رنگ ڈھنگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دوسرے بھائیوں کی نسبت زیادہ مشابہت رکھتے تھے۔اور اس مشابہت کو ہر غور کی نظر سے دیکھنے والا انسان محسوس کرتا اور پہچانتا تھا۔چنانچہ ان کے جنازے کے وقت مجھ سے بعض دوستوں نے از خود بیان کیا کہ ان کا حلیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بہت ملتا ہے اور یہ مشابہت وفات میں اور بھی زیادہ نمایاں ہو گئی تھی۔اخلاقی اور روحانی لحاظ سے بھی ہمارے مرحوم بھائی کو بعض لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ خاص مشابہت حاصل تھی۔مثلاً اہم امور میں فیصلہ کرتے ہوئے یا مشورہ دیتے ہوئے ان کی رائے بہت متوازن اور صائب ہوتی تھی۔وہ نہ تو اپنے ایک بھائی کی طرح زبر دست جلالی شان رکھتے تھے گو یہ جلال بھی ایک خدائی پیشگوئی کے مطابق ہے ) اور نہ ان میں دوسرے بھائی کی طرح نرمی اور فروتنی کا ایسا غلبہ تھا جو بعض لوگوں کی نظر میں کمزوری کا موجب سمجھا جا سکتا ہے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرح ان کے مزاج میں ایک لطیف قسم کا توازن پایا جا تا تھا۔عفوود شفقت کے موقع پر وہ پانی کی طرح نرم ہوتے تھے جو ہر چیز کو رستہ دیتا چلا جاتا ہے مگر سزا اور عقوبت کے جائز مواقع میں وہ ایک چٹان کی طرح مستحکم تھے جسے کوئی جذ بہ یا کوئی خیال اپنی جگہ سے متزلزل نہیں کر سکتا تھا۔