مضامین بشیر (جلد 4) — Page 15
مضامین بشیر جلد چهارم 15 اے میرے آسمانی آقا! وہ تیری طرف سے آیا ہوا مقدس صحیفہ ہے جسے بار بار چومنے اور اس کے گرد طواف کرنے کے لئے میرا دل بے چین رہتا ہے۔ایک صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیل گاڑی میں بیٹھ کر قادیان سے بٹالہ تشریف لے جا رہے تھے ( اور یہ سفر بیل گاڑی کے ذریعہ قریباً پانچ گھنٹے کا تھا ) حضرت مسیح موعودؓ نے قادیان سے نکلتے ہی اپنی حمائل شریف کھول لی اور سورہ فاتحہ کو پڑھنا شروع کیا اور برابر پانچ گھنٹے تک اسی سورۃ کو استغراق کے ساتھ پڑھتے رہے کہ گویا ایک وسیع سمندر ہے جس کی گہرائیوں میں آپ اپنے از لی محبوب کی محبت و رحمت کے موتیوں کی تلاش میں غوطے لگا رہے ہیں۔(سیرۃ المہدی حصہ دوم صفحہ 106 ) جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ کو اس کثرت اور اس تکرار کے ساتھ اپنی وفات کے قرب کے بارے میں الہام ہوئے کہ کوئی اور ہوتا تو اس کے ہاتھ پاؤں ڈھیلے پڑ جاتے۔مگر چونکہ آپ کو خدا کے ساتھ کامل محبت تھی اور اُخروی زندگی پر ایسا ایمان تھا کہ گویا آپ اسے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ رہے ہیں۔آپ ان پے در پے الہاموں کے باوجود ایسے شوق اور ایسے انہماک کے ساتھ دین کی خدمت میں لگے رہے کہ گویا کوئی بات ہوئی ہی نہیں۔بلکہ اس خیال سے اپنی کوششوں کو تیز سے تیز تر کر دیا کہ اب میں اپنے محبوب سے ملنے والا ہوں اس لئے اس کے قدموں میں ڈالنے کے لئے جتنے پھول چن سکوں، چن لوں۔یہ اسی طرح کی کیفیت تھی جس کے ماتحت آپ کے آقا رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض الموت میں شوق کے ساتھ فرمایا تھا کہ: اللَّهُمَّ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى اللَّهُمَّ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى ( صحیح بخاری کتاب المغازی باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ) یعنی خدایا! اب میں تیرے قدموں میں حاضر ہورہا ہوں اور تیری قریب ترین معیت کا آرزومند ہوں۔خدا نے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس محبت کو ایسی قدرشناسی سے نوازا تھا کہ جو اسی کی بے پایاں رحمت کا حق اور اس کی بے نظیر قدرشناسی کے شایانِ شان ہے۔چنانچہ آپ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے: أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ تَوْحِيدِى وَ تَفْرِيدِى أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ وَلَدِي إِنِّي مَعَكَ يَا إِبْنَ رَّسُول الله ( تذکره صفحه 53 ، 442، 490 ایڈیشن چہارم) یعنی چونکہ اس زمانہ میں تو میری توحید کا علم بردار ہے اور توحید کے کھوئے ہوئے متاع دنیا میں دوبارہ