مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 14 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 14

مضامین بشیر جلد چهارم 14 یعنی اے وہ کہ تجھ پر میرا سر اور میری جان اور میرا دل اور میرا ہر ذرہ قربان ہے تو اپنے رحم وکرم سے میرے دل پر اپنے عرفان کا ہر رستہ کھول دے۔وہ فلسفی تو دراصل عقل سے کورا ہے جو تجھے عقل کے ذریعہ تلاش کرتا ہے کیونکہ تیرا پوشیدہ رستہ عقلوں سے دور اور نظروں سے مستور ہے۔یہ سب لوگ تیری مقدس بارگاہ سے بے خبر ہیں۔تیرے دروازہ تک جب بھی کوئی شخص پہنچا ہے تو صرف تیرے احسان کے نتیجہ میں ہی پہنچا ہے۔تو بے شک اپنے عاشقوں کو دونوں جہان بخش دیتا ہے مگر تیرے غلاموں کی نظر میں دونوں جہانوں کی کیا حقیقت ہے؟ وہ تو صرف تیرے منہ کے بھوکے ہوتے ہیں۔دوست ان شعروں پر غور کریں۔حضرت مسیح موعود کس ناز سے فرماتے ہیں کہ اے میرے آسمانی آقا! تو نے بے شک مجھے گویا دونوں جہانوں کی نعمتیں دے دی ہیں مگر مجھے ان نعمتوں سے کیا کام ہے؟ مجھے تو بس تو چاہئے۔یہ وہی بات ہے کہ حضرت موسیٰ کو خدا نے نبوت دی۔فرعون جیسے جبّار بادشاہ پر غلبہ بخشا۔ایک قوم کی سرداری عطا کی مگر پھر بھی ان کی پکار یہی رہی کہ " رَبِّ اَرِنِى أَنْظُرُ إِلَيْكَ (الاعراف:144) یعنی ” خدایا تیرے احسانوں کے نیچے میری گردن دبی ہوئی ہے مگر ذرا اپنا چہرہ بھی دکھا دیجئے ! یہی حال اپنے محبوب آقا حضرت خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کی ظلیت میں حضرت مسیح موعود کا تھا۔چنانچہ دوسری جگہ فرماتے ہیں: در رو عالم مرا عزیز توئی و آنچه میخواهم از تو نیز توئی (دیباچہ براہین احمدیہ حصہ اول صفحہ 16 روحانی خزائن جلد 1 ) یعنی دونوں جہانوں میں میرا تو بس تو ہی محبوب ہے اور میں تجھ سے صرف تیرے ہی وصال کا آرزومند ہوں۔قرآن مجید سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس کے بے نظیر معنوی اور ظاہری محاسن کی وجہ سے بے حد عشق تھا۔مگر باوجود اس کے قرآنی محبت کی اصل بنیاد بھی خدا ہی کی محبت پر قائم تھی۔فرماتے ہیں: ے دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں قرآں کے گرد گھوموں کعبہ میرا یہی ہے ( قادیان کے آریہ اور ہم ) یعنی قرآن کی خوبیاں تو ظاہر و عیاں ہیں مگر اس کے ساتھ میری محبت کی اصل بنیاد اس بات پر ہے کہ