مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 336 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 336

مضامین بشیر جلد چهارم 336 مگر یا درکھنا چاہئے کہ خدا کے مامور ومرسل نعوذ باللہ مداری نہیں ہوتے کہ یونہی تماشے کے طور پر ایسے شعبدے دکھاتے پھریں بلکہ جب کوئی حقیقی ضرورت پیدا ہوتی ہے تو خدا تعالیٰ فور سامنے آکر اپنے بندوں کے بوجھ اٹھا لیتا ہے اور ان کی حفاظت فرماتا اور ان کی مدد کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک نہایت پیارا شعر ہے کہ جب حق کے دشمن خدا کے ماموروں اور مرسلوں کو تنگ کرنے اور ذلیل کرنے کے درپے ہوتے ہیں اور صداقت کو نقصان پہنچانے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے تو اس وقت خدا اپنی غیر محدود غیبی طاقتوں کے ساتھ آگے آجاتا ہے اور کہتا ہے یہ تو بنده عالی جناب ہے مجھ سے لڑو اگر تمہیں لڑنے کی تاب ہے 16 ( براہین احمدیہ حصہ پنجم ) اس قسم کی غیر معمولی غیبی نصرت کی مثالیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ایک دو نہیں۔دس ہیں نہیں۔بلکہ سینکڑوں ملتی ہیں۔مگر چونکہ سنت اللہ کے مطابق اس قسم کے عام واقعات عموماً محدود قسم کی پرائیویٹ مجلسوں میں یا خاص دوستوں میں ظاہر ہوتے ہیں اس لئے جہاں حضرت مسیح موعود نے اپنی کتابوں میں اپنے خاص معجزات کا ذکر کیا ہے وہاں اس قسم کے عام خوارق کے ذکر کی ضرورت نہیں سمجھی۔البتہ حاضر الوقت احمدیوں کی روایتوں کے ذریعہ بعض باتیں ضرور منظر عام پر آگئی ہیں۔چنانچہ جو واقعہ اب میں بیان کرنے لگا ہوں وہ بھی اسی قسم کے چھوٹے چھوٹے واقعات میں سے ہے جو مرسل یزدانی کی روحانی توجہ اور خدا تعالیٰ کی غیبی نصرت کی شعاعوں سے معمور ہیں۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی بیان کرتے ہیں کہ جب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کے بعد لدھیانہ میں ٹھہرا ہوا تھا تو ایک صوفی منش شخص نے چند سوالات کے بعد حضرت مسیح موعود سے دریافت کیا کہ کیا آپ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی زیارت بھی کر سکتے ہیں؟ حضرت مسیح موعود نے جواب میں فرمایا کہ اس کے لئے مناسبت شرط ہے“ اور پھر میری طرف منہ کر کے فرمایا:۔”یا جس پر خدا کا فضل ہو جائے“ حضرت منشی ظفر احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ اسی رات مجھے خواب میں آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی (اصحاب احمد جلد 4 صفحہ 92) منشی صاحب موصوف فرماتے ہیں کہ اس کے بعد بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا اور توجہ سے مجھے کئی دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی۔چنانچہ منشی