مضامین بشیر (جلد 4) — Page 333
مضامین بشیر جلد چهارم 333 ممالک کے ادیب بھی عش عش کر اٹھتے ہیں۔اس عجیب و غریب واقعہ کے متعلق سلسلہ کے اخبارات اور کتب میں کسی قدر تفصیلی بیانات شائع ہو چکے ہیں مگر میں اس جگہ حضرت مسیح موعود کے قدیم نو مسلم صحابی حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کی چشم دید اور گوش شنید روایت کا خلاصہ بیان کرتا ہوں۔حضرت بھائی صاحب روایت کرتے ہیں کہ عید الاضحی 1900 ء سے ایک دن قبل جو حج کا دن تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مولوی نور الدین صاحب (خلیفہ اول) کو کہلا بھیجا کہ میں یہ حج کا دن خاص دعاؤں میں گزارنا چاہتا ہوں اس لئے جو دوست دعا کی درخواست دینا چاہیں آپ ان کے نام لکھ کر اور فہرست بنا کر مجھے بھجوادیں۔چنانچہ حضرت بھائی صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس دن کثرت کے ساتھ حضرت مولوی نورالدین صاحب کی وساطت سے حضرت مسیح موعود کی خدمت میں دعا کی درخواستیں پہنچیں اور بعض اصحاب نے براہ راست بھی دعا کی درخواست لکھ کر حضور کی خدمت میں بھجوائی اور چونکہ اس زمانہ میں عید کے موقع پر بیرونی مقامات سے بھی کافی دوست عید پڑھنے اور حضرت مسیح موعود کی ملاقات سے مشرف ہونے کے لئے قادیان آجایا کرتے تھے وہ بھی اس غیبی تحریک میں شامل ہو گئے۔اور یہ دن قادیان میں خاص دعاؤں اور غیر معمولی تضرعات اور بڑی برکات میں گزرا۔دوسرا دن عید کا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نماز سے پہلے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ارشاد فرمایا ہے کہ۔آج تم عربی زبان میں تقریر کرو تمہیں قوت دی جائے گی اور فصیح و بلیغ کلام سے نوازا جائے گا“ ( تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ 280) چنانچہ پہلے عید کی نماز حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے پڑھائی اور اس کے بعد حضرت مسیح موعود نے ایک مختصر سا خطبہ اردو میں دیا جس میں خصوصیت کے ساتھ جماعت کو باہم اتفاق اور اتحاد اور محبت کی نصیحت فرمائی اور پھر حضور نے حضرت مولوی نور الدین صاحب اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی کو اپنے قریب آکر بیٹھنے کے لئے ارشاد فرمایا اور فرمایا کہ۔اب جو کچھ میں بولوں گا وہ چونکہ خاص خدائی عطا سے ہے آپ لوگ اسے توجہ سے لکھتے جائیں تا کہ وہ محفوظ ہو جائے۔ورنہ بعد میں شائد میں خود بھی نہیں بتا سکوں گا کہ میں نے کیا کہا تھا“ اصحاب احمد جلد 9 روایت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی) اس کے بعد حضور مسجد اقصیٰ قادیان کے درمیانی دروازے میں ایک کرسی پر مشرق کی طرف منہ کر کے