مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 319 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 319

مضامین بشیر جلد چہارم 319 دوڑے چلے آتے ہیں۔اور اپنے عقائد کے بنوں کے ذریعہ خدا کی زمین کو نا پاک کر رہے ہیں۔بلکہ ان کے لشکروں نے مسلمانوں کی زمینوں میں بھی ڈیرے ڈال دیئے ہیں۔اور ان کے دجالی فتنے مسلمان عورتوں تک میں سرایت کر رہے ہیں۔اے احمد کے آقا! اے محمد کے معبود ومسجود خدا! تو اپنے بندوں کو ان کے خطرناک زہروں سے محفوظ رکھ۔اے میرے رب! تو ان کی طاقت کو اس طرح توڑ دے جس طرح کہ تو سرکش لوگوں کو توڑا کرتا ہے اور ان کی عمارتوں کو مسمار کرنے کے لئے ان کے میدان میں اتر آ۔اے میرے رب! تو ان کے جتھے کو بکھیر کر ان کی جمعیت کو منتشر کر دے اور ان کو تباہی کی طرف گھسیٹ گھسیٹ کر اس طرح پگھلا کر رکھ دے جس طرح کہ نمک پانی میں پگھلتا ہے۔کیا مسیحیوں کے عقائد اور عیسائی پادریوں کے طور و طریق کے متعلق ایسے غیرت مندانہ خیالات ظاہر کرنے والا شخص انگریزوں کی عیسائی حکومت کا خوشامدی سمجھا جاسکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔ہر گز نہیں۔باقی رہا انگریز کے زمانہ میں انگریزی حکومت کی وفاداری کا سوال۔سو یہ ایک اصولی سوال ہے جسے خوشامد کے سوال کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں اور نہ اس سوال کو انگریزوں کے ساتھ کوئی خصوصی تعلق ہے۔ایک پاکباز مسلمان بلکہ ایک نائب رسول روحانی مصلح ہونے کی حیثیت میں حضرت مسیح موعود کا یہ پختہ عقیدہ تھا کہ قطع نظر مذہب وملت کے ہر مسلمان کو اپنے ملک کی حکومت کا وفادار شہری بن کر رہنا چاہئے۔یہ وہی زریں تعلیم ہے جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کی زندگی میں جبکہ آپ قریش کی قبائلی حکومت کے ماتحت تھے اور حضرت موسے نے اپنی مصری زندگی میں جبکہ وہ فرعون کی حکومت کے ماتحت تھے اور حضرت عیلے نے اپنی فلسطینی زندگی میں جبکہ وہ قیصر روما کے ماتحت تھے پوری پوری دیانتداری کے ساتھ عمل کیا۔اور اسی کی اپنے متبعین کو تلقین فرمائی۔اور یہی وہ پُر امن تعلیم ہے جو قرآن حکیم نے اس اصولی آیت میں سکھائی ہے کہ۔اَطِيْعُوا اللَّهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُولَ وَ أولى الأمرِ مِنْكُمْ (النساء: 60) یعنی اے مومنو! خدا کی اطاعت کرو اور خدا کے رسول کی اطاعت کرو اور پھر اپنے ان حاکموں کی بھی اطاعت کرو جو تم پر مقرر ہوں۔اس واضح تعلیم کے ماتحت جماعت احمد یہ جو اب خدا کے فضل سے ایک عالمگیر جماعت ہے اور ایشیا کے اکثر ممالک اور مشرقی افریقہ اور مغربی افریقہ کے اکثر ممالک اور آسٹریلیا اور یورپ کے کئی ممالک اور شمالی امریکہ اور جنوبی امریکہ تک میں پھیل چکی ہے جہاں جہاں بھی ہے قطع نظر حکومت کے مذہب وملت کے اپنے اپنے ملک کی کچی وفادار اور دلی خیر خواہ ہے اور جو شخص ہماری نیت کو شبہ کی نظر سے دیکھتا ہے خواہ وہ کوئی