مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 320 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 320

مضامین بشیر جلد چہارم 320 ہو وہ یا تو جھوٹا ہے یا دھوکا خوردہ ہے اس کے سوا کچھ نہیں۔وَاللهُ عَلى مَا تَقُولُ شَهِيدٌ وَ لَعْنَةُ اللهِ عَلَى مَنْ كَذَبَ۔9 میں ایک ضمنی مگر ضروری بات کی وجہ سے اپنے مضمون سے ہٹ گیا۔میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جلالی شان کی بعض مثالیں بیان کر رہا تھا۔چنانچہ ایک واقعہ مقدمہ مولوی کرم دین سکنہ بھیں سے تعلق رکھنے والا جو عدالت میں پیش آیا بیان کر چکا ہوں۔دوسرا جلالی نوعیت سے تعلق رکھنے والا واقعہ بھی اسی عدالت کا ہے۔مسٹر چند ولعل مجسٹریٹ نے ایک دن عدالت میں لوگوں کا زیادہ ہجوم دیکھ کر عدالت کے کمرے سے باہر کھلے میدان میں عدالت کی کارروائی شروع کی۔اور نہ معلوم کس خیال سے عدالت کی کارروائی کے دوران میں حضرت مسیح موعود سے پوچھا۔” کیا آپ کو نشان نمائی کا دعوئی ہے؟“۔حضرت مسیح موعود نے جواب میں فرمایا۔”ہاں خدا میرے ہاتھ پر نشان ظاہر فرماتا ہے۔مجسٹریٹ کے اس سوال میں طعن اور استہزاء کا رنگ تھا۔حضرت مسیح موعود نے یہ جواب دے کر تھوڑی دیر سکوت فرمایا گویا خدا کی طرف توجہ فرما رہے ہیں اور اس کی نصرت کے طالب ہورہے ہوں اور پھر بڑے جوش اور غیرت کے ساتھ فرمایا۔جونشان آپ چاہیں میں اس وقت دکھا سکتا ہوں“ مجسٹریٹ حضور کا یہ جواب سن کر سناٹے میں آ گیا اور اسے سامنے سے کسی مزید سوال کی جرات نہیں ہوئی اور حاضرین پر بھی اس کا خاص اثر ہوا۔(اصحاب احمد جلد 4 روایت نمبر 48) یہ واقعہ منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی اور بہت سے دوسرے لوگوں کا چشم دید اور گوش شنید ہے جن میں سے بعض غالبا اب تک زندہ ہونگے۔افسوس ہے کہ مجسٹریٹ کو اس موقع پر بات شروع کر کے اسے آگے چلانے کی ہمت نہیں ہوئی اور نہ اس نے از خود نشان نمائی کا ذکر چھیڑ نے کے بعد حضرت مسیح موعود کے جلالی جواب پر نشان طلبی کی جرات کی ورنہ نہ معلوم دنیا کتنا عظیم الشان نشان دیکھتی ! مگر کیا خود نشان طلب کرنے کے بعد پھر حق کی آواز سن کر مرعوب ہو جانا اپنی ذات میں ایک نشان نہیں ؟ یقیناً اس وقت کے لحاظ سے یہی ایک عظیم الشان نشان تھا کہ مکذب نے از خود ایک نشان مانگا مگر پھر حضرت مسیح موعود کے جواب سے ڈر کر خاموش ہو گیا۔