مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 280 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 280

مضامین بشیر جلد چہارم 280 عمل کرنا عملاً ختم ہو چکا ہوگا۔گویانہ تو بیرونی قوموں کے مقابلہ پر اسلام کی کوئی حیثیت باقی رہ جائیگی اور نہ خود مسلمان ہی اسلام پر قائم رہیں گے۔اور اس دوہری خارجی اور اندرونی مصیبت کی وجہ سے مسلمانوں پر ایک بھاری ابتلاء آئے گا۔مگر خدا فرماتا ہے کہ ہمارا یہ مسیح جب دنیا میں آئے گا تو اس کے ذریعہ آہستہ آہستہ پھر مسلمانوں میں بیداری پیدا ہوگی اور اسلام ایسی ترقی کرنی شروع کرے گا کہ وہ اپنی کھوئی ہوئی شان و شوکت کو پھر دوبارہ حاصل کرلے گا اور مسلمانوں کی اندرونی حالت بھی سدھر جائے گی۔سوانصار اللہ کے قیام کا دوسرا مقصد یہ ہونا چاہئے (اور درحقیقت یہ بھی پہلے مقصد ہی کی شاخ ہے ) کہ وہ تبلیغ کے ذریعہ اسلام کی شان و شوکت کو بڑھائیں اور تربیت کے ذریعہ مسلمانوں کو پھر اس اعلیٰ مقام پر قائم کر دیں جس پر وہ قرونِ اولیٰ میں قائم ہوئے تھے۔اس کے بغیر وہ کبھی بھی حقیقی معنوں میں انصار اللہ نہیں سمجھے جا سکتے۔انصار اللہ کے نام کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے ساتھ بھی ایک خاص تعلق ہے۔وہ یہ کہ چونکہ حضرت مسیح موعود حضرت مسیح ناصری کے مثیل ہیں اور اسی رنگ میں جمالی طریق پر اسلام کی خدمت کے لئے مبعوث کئے گئے ہیں اس لئے مسیح ناصری کے حواریوں کی طرح آپ کی جماعت کو انصار اللہ کے لفظ سے مخصوص نسبت ہے۔قرآن مجید میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب حضرت عیسی علیہ السلام نے خدائی کام میں اپنی مدد کے لئے لوگوں کو بلایا تو اس وقت آپ نے یہ الفاظ استعمال کئے تھے کہ مَنْ أَنْصَارِيُ إِلَى اللَّهِ یعنی خدا کے کام میں میرا مددگار کون بنتا ہے؟ جس پر حواریوں نے جواب دیا کہ محسن انصار اللہ یعنی ہم انصار اللہ ہیں۔چونکہ آپ لوگ بھی ایک طرح سے مسیح محمدی کے حواریوں کے زمرہ میں داخل ہیں۔اس لئے آپ کے لئے حواریوں کے جواب کے مطابق انصار اللہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ہم سب کی ذمہ داری بہت بڑھ گئی ہے کیونکہ خدا کا مددگار بنا کوئی آسان کام نہیں۔اب میں بعض تفصیلی باتوں کی طرف آتا ہوں۔سب سے پہلی بات تو میں اپنے بھائیوں کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ سے دوری کی وجہ سے لازماً جماعت میں بعض کمزوریوں کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے اور نسلی احمدی بڑھ رہے ہیں۔ان کا بڑھنا ہمارے لئے یقینا بڑی خوشی کا موجب ہے مگر ساتھ ہی ہم پر یہ بھاری ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ ان کی تربیت کا خاص خیال رکھیں اور اس بات کی نگرانی رکھیں کہ وہ بعد میں آنے کے باوجود اسلام اور احمدیت کی روح پر قائم رہیں یہ کام سب سے اول نمبر پر والدین کا ہے کہ وہ بچوں کی صحیح طریق پر تربیت کریں اور ان کے دلوں میں دین کی محبت پیدا