مضامین بشیر (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 273 of 584

مضامین بشیر (جلد 4) — Page 273

مضامین بشیر جلد چهارم چھپ چکا ہے۔273 اب ذیل میں عزیز مرزا طاہر احمد سلمہ کی مہیا کردہ رپورٹ کی بناء پر بعض اور خوش کن ملاقاتوں کا ذکر درج کیا جاتا ہے۔یہ بات تو جماعت کو معلوم ہی ہے کہ حضور اس بیماری میں بھی حسب حالات یعنی جب بھی طبیعت بہتر ہو خلص دوستوں سے ملاقات فرماتے رہتے ہیں۔چنانچہ اسی دستور کے مطابق حضور نے 8 نومبر 1961ء کو بھی بعض احباب کو ملاقات کا موقع عطا فرمایا اور بڑے سکون اور خوشی کے ساتھ گفتگو فرماتے رہے۔سب سے پہلے حکیم خلیل احمد صاحب مونکھیری کے داماد یعنی محمد اختر حفیظ صاحب نے جو کراچی سے تشریف لائے تھے حضور سے ملاقات کی۔یہ ملاقات چند منٹ تک جاری رہی اور اس ملاقات کے دوران میں حضرت صاحب حکیم خلیل احمد صاحب کا تذکرہ فرماتے رہے اور اپنی قدیم یادداشت کی بناء پر فرمایا کہ ایک زمانہ میں حکیم صاحب مونگھیر کے ایک اشد مخالف احمدیت کے اعتراضوں کا بہت عمدہ جواب اخباروں میں بھجوایا کرتے تھے۔اس کے بعد مشرقی بنگال کے تین مخلص واقف زندگی طلباء یعنی عبد السلام صاحب اور محمد مسلم صاحب اور انیس الرحمان صاحب کی ملاقات ہوئی۔ان کی ملاقات کے دوران میں حضور محترم مولوی عبدالواحد صاحب مرحوم آف برہمن بڑ یہ بنگال اور مکرم چوہدری ابوالہاشم خان صاحب مرحوم اور مکرم مولوی محمد صاحب سابق امیر جماعت ہائے بنگال کا محبت کے ساتھ ذکر فرماتے رہے۔سب سے آخر میں حاجی محمد فاضل صاحب ربوہ ملاقات کے لئے آئے۔حاجی صاحب چونکہ پنجابی کے شعروں میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔انہوں نے حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے چند پنجابی شعر سنانے کی اجازت مانگی اور اجازت ملنے پر قریباً دس منٹ تک اپنی ایک پنجابی نظم سناتے رہے۔جس میں افریقہ اور یورپ اور امریکہ وغیرہ میں احمدی مجاہدین کی شاندار قربانیوں اور کارناموں کا ذکر تھا۔حضرت صاحب حاجی صاحب کے مخصوص انداز بیان پر ہنستے بھی رہے۔الغرض یہ ساری ملاقاتیں بہت دلچسپ اور مسرورکن رہیں۔احباب جماعت کو چاہئے کہ حضرت صاحب کی صحت کے لئے خاص طور پر دعائیں کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ جو شافی مطلق ہے حضور کو پھر پہلے جیسی طاقت اور قوت اور یکسوئی کے ساتھ جماعت کی راہنمائی کی طاقت عطا فرمائے اور حضور گزشتہ کی طرح احباب کو زیادہ کثرت کے ساتھ لمبی لمبی ملاقاتوں میں اپنی زریں