مضامین بشیر (جلد 4) — Page 270
مضامین بشیر جلد چهارم 270 ضروری قومی خدمت ہے کہ اگر ان کی بہنیں یا دوسری قریبی رشتہ دار لڑکیاں ہائی کلاسوں یا کالجوں میں پڑھتی ہوں اور وہ بیرونی فضا یا آزاد صحبت کے اثر کے ماتحت پر دے کے معاملہ میں غیر محتاط ہورہی ہوں تو نصیحت اور مناسب نگرانی کے ذریعہ ان کے اس غیر اسلامی رجحان کو روکیں۔اسلامی پردہ عورتوں کی تعلیم اور ترقی میں ہرگز روک نہیں بنتا۔اسلام صرف زینت کے برملا اظہار اور مردوں اور عورتوں کے نا واجب اختلاط کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے اور اس میں غیور احمدی بچوں کو ہما را ہاتھ بٹا کر ثواب کمانا چاہئے۔خدام الاحمدیہ میں ایک شعبہ خدمت خلق کا بھی ہے۔یہ شعبہ بھی بڑا مبارک اور اسلامی تعلیم کے عین مطابق ہے۔بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے مطابق آپ لوگ خلق“ کے مفہوم میں انسانوں کے علاوہ جانوروں تک کو بھی شامل کریں۔حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ ایک فاحشہ عورت نے ایک ایسے پیاسے کتے کو پانی پلایا جو پیاس کی شدت کی وجہ سے مر رہا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اسی نیکی کی وجہ سے اسے بخش دیا اور یہ تو مجھے کہنے کی ضرورت نہیں کہ خدمت خلق میں صرف احمد یوں کی خدمت ہی ملحوظ نہ رکھی جائے بلکہ جیسا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی بار ہارتا کید فرما چکے ہیں یہ خدمت دلی خلوص کے ساتھ ساری قوموں اور ساری ملتوں تک وسیع ہونی چاہئے اور احمدی غیر احمدی، عیسائی، ہندو،سکھ بلکہ کسی مذہب کے ادنیٰ سے ادنی فرد کو بھی اس سے باہر نہ رکھا جائے۔کیونکہ یہ سب خدا کی مخلوق ہونے کی وجہ سے خلق کے مفہوم میں شامل ہیں۔میں تو بعض اوقات اپنے ذوق کے مطابق خدام الاحمدیہ کے معنے ہی یہ کیا کرتا ہوں کہ وہ احمدی نوجوان جو ساری دنیا کے خادم ہیں۔اس خدمت میں یقیناً ہر مذہب وملت کے یتامیٰ اور بیوگان کی خدمت اور غریبوں اور بیماروں اور مصیبت زدوں کی خدمت بدرجہ اولی شامل ہے۔مگر ایک بات اس خدمت خلق میں ضرور ملحوظ رکھنی چاہئے کہ جہاں کوئی بڑا حادثہ سیلاب وغیرہ کی صورت میں وسیع پیمانہ پر پیش آئے تو وہاں انفرادی خدمت بجالانے کی بجائے بہتر طریق یہ ہوگا کہ اپنی خدمات علاقہ کے سرکاری انسروں کو پیش کر دی جائیں تا کہ ایک تنظیم کے ماتحت یکجائی طور پر وسیع پیمانہ پر خدمت ہو سکے۔خدام الاحمدیہ کے کاموں میں ایک خاص کام وقار عمل بھی ہے۔مجھے افسوس ہے کہ اب اس کام کی طرف جماعت کے ایک حصہ میں پہلے جیسی توجہ نہیں رہی۔حالانکہ یہ کام نہ صرف بہت مفید ہے اور اس سے ملک وملت کی خدمت بجالانے کا بہت عمدہ موقع ملتا ہے بلکہ اس کام حصہ لینے والوں کا ذاتی کیریکٹر بھی بنتا ہے اور تکبر اور بڑائی کا خیال دور ہو کر اخوت اور مساوات اور ہاتھ سے کام کرنے کی روح ترقی کرتی ہے۔پس خدام الاحمدیہ کو چاہئے کہ اس کام میں ہرگز مستی نہ پیدا ہونے دیں اور جہاں بھی کوئی ایسی خدمت کا موقع