مضامین بشیر (جلد 4) — Page 214
مضامین بشیر جلد چهارم قربانیوں کی رقوم وصول ہو رہی ہیں 214 عید الاضحیٰ جو قر بانیوں کی عید ہے بہت قریب آگئی ہے۔یہ عید مومنوں کو اپنی جان اور اپنی اولاد کی قربانی کا سبق دیتی ہے اور اسی سبق کی یاد دہانی کے لئے سنت ابراہیمی کے مطابق ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس موقع پر سچے مسلمانوں کو جانوروں کی قربانی کرنی چاہئے تاکہ ان کے دلوں میں خدا کی خاطر اور قوم کی خاطر موقع آنے پر قربانی کا جذبہ پیدا ہو اور ترقی کرے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے متعلق بہت تاکید فرمائی ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ جس مسلمان کو اس کی طاقت ہو وہ ضرور قربانی دے مگر یہ رعایت رکھی ہے کہ سارے گھر کی طرف سے ایک جانور کی قربانی کافی ہوسکتی ہے۔بکرے یا چھترے کی صورت میں ایک جانور قربان کیا جائے گا اور گائے کی صورت میں سات آدمیوں کی شرکت ہوسکتی ہے۔(محرره 18 مئی 1961ء) ربوہ میں میرا ذاتی مکان دوستوں سے دعا کی درخواست روزنامه الفضل ربوہ 20 مئی 1961ء) اس وقت تک میں ربوہ میں صدرانجمن احمدیہ کے ایک مکان میں کرایہ دار کے طور پر رہتا تھا مگر میرے دل میں ایک عرصہ سے یہ خواہش تھی کہ خدا توفیق دے تو اپنا مکان بنانا چاہئے۔کرایہ کے مکان میں رہتے ہوئے مجھے یوں محسوس ہوتا تھا کہ خدا تعالیٰ نے اپنی تقدیر کے ماتحت ہمیں ہجرت کے امتحان میں ڈالا لیکن اگر میں نے ہجرت کا زمانہ کرایہ کے مکان میں ہی گزار دیا اور گویا ہر وقت پا در رکاب رہا تو میں نے در حقیقت ہجرت کے امتحان کو قبول نہیں کیا۔پس میں نے خیال کیا کہ خدائی تقدیر کو قبول کرنے کا یہ ضروری تقاضا ہے کہ جب بھی توفیق ملے اور توفیق بہر حال لازمی شرط ہے کیونکہ لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقره: 287) میں اپنا مکان بنا کر خدا کی تقدیر کوعملا قبول کرنے والا بن جاؤں۔سو الـحـمـد لله ثمّ الحمد لله ثم الحمد للہ کہ ایک لمبے عرصہ کے بعد خدائے مسبب الاسباب نے مجھے تو فیق عطا کی ہے اور میں نے ربوہ میں اپنا مکان بنالیا ہے۔