مضامین بشیر (جلد 4) — Page 185
مضامین بشیر جلد چهارم 185 اور پھر خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر فر مایا کہ: ” جب میرا کیسہ خالی ہوتا ہے تو جو ذوق اور سرور اللہ تعالیٰ پر توکل کا مجھے اس وقت حاصل ہوتا ہے میں اس کی کیفیت بیان نہیں کر سکتا اور یہ حالت بہت ہی زیادہ راحت بخش اور طمانیت انگیز ہوتی ہے بہ نسبت اس کے کہ کیسہ بھرا ہوا ہو۔“ ( الحکم جلد 3 نمبر 32 صفحہ 4و5 بحوالہ ملفوظات جلداول) کیسہ تو اہلِ فقر کا ہر وقت خالی رہتا ہے مگر حضرت مسیح موعود کے تو کل کی شان ملاحظہ ہو کہ جس طرح ایک زیرک زمیندار اپنے بار بار کے تجربہ شدہ کنویں کے متعلق یقین رکھتا ہے کہ جب اس کا موجودہ پانی ختم ہونے پر آئے گا تو اس کے زیر زمین سوتے خود بخود کھل جائیں گے اور کنواں پھر پانی سے بھر جائے گا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود کا دل اس یقین سے معمور تھا کہ ادھر میری جیب خالی ہوئی اور ادھر آسمان کا غیبی ہاتھ اسے پھر بھر دے گا اور جو کام مجھے خدا نے سپر د کیا ہے اس میں روک پیدا نہیں ہوگی۔یہ وہی مقام نصرت ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو بالکل اوائل میں ہی الہام فرمایا تھا کہ : أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ یعنی کیا خدا اپنے بندے کے لئے کافی نہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ خدائی الہام شروع سے لے کر آخر تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر رحمت کا بادل بن کر چھا یا ر ہا۔29۔محترم بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک پرانے اور مخلص صحابی ہیں اور حضور کے ہاتھ پر ہندو سے مسلمان ہوئے تھے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے آخری سفر میں لاہور تشریف لے گئے اور اس وقت آپ کو بڑی کثرت کے ساتھ قرب وفات کے الہامات ہو رہے تھے تو ان دنوں میں میں نے دیکھا کہ آپ کے چہرہ پر ایک خاص قسم کی ربودگی اور نورانی کیفیت طاری رہتی تھی۔ان ایام میں حضور ہر روز شام کے وقت ایک قسم کی بندگاڑی میں جو فٹن کہلاتی تھی ہوا خوری کے لئے باہر تشریف لے جایا کرتے تھے اور حضور کے حرم اور بعض بچے بھی ساتھ ہوتے تھے۔جس دن صبح کے وقت حضور نے فوت ہونا تھا اس سے پہلی شام کو جب حضور فٹن میں بیٹھ کر سیر کے لئے تشریف لے جانے لگے تو بھائی صاحب روایت کرتے ہیں کہ اس وقت حضور نے خصوصیت کے ساتھ فرمایا: