مضامین بشیر (جلد 4) — Page 160
مضامین بشیر جلد چهارم 160 زار زار روتے ہوئے حضرت مسیح موعود کے قدموں میں گر گئے۔حضرت مسیح موعود نے ان کو بڑی مشکل سے یہ فرماتے ہوئے زمین سے اٹھایا کہ الآمُرُ فَوْقَ الادب۔اس وقت صاحبزادہ صاحب نے بڑی رقت کے ساتھ عرض کیا: ”حضرت! میرا دل کہتا ہے کہ میری موت کا وقت آگیا ہے اور میں اس زندگی میں آپ کا مبارک چہرہ پھر نہیں دیکھ سکوں گا۔“ (سیرۃ المہدی روایت 260 و شمائل مصنفہ حضرت عرفانی صاحب) چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ کابل پہنچنے پر امیر حبیب اللہ خان نے کابل کے ملانوں کے فتویٰ کے مطابق ان کو اولا بار بار توبہ کرنے کے لئے کہا اور سخت ترین سزا کی دھمکی کے علاوہ طرح طرح کے لالچ بھی دیئے۔مگر جب انہوں نے سختی سے انکار کیا اور ہر دفعہ یہی فرمایا کہ جس چیز کو میں نے حق سمجھ کر خدا کی خاطر قبول کیا ہے اسے کبھی نہیں چھوڑوں گا تو پھر ان کو ایک میدان میں کمر تک زمین میں گاڑ کر ان پر پتھروں کی بے پناہ بارش برسائی۔حتی کہ اس عاشق الہی کی روح اپنے آسمانی آقا کے حضور حاضر ہوگئی اور انسان پر انسان کے ظلم اور مذہب میں بدترین تشدد کا یہ خونین ڈرامہ ختم ہوا۔جب حضرت مسیح موعود کو صاحبزادہ صاحب کی شہادت کی خبر پہنچی تو آپ نے بڑے درد کے ساتھ لکھا کہ : ”اے عبداللطیف! تیرے پر ہزاروں رحمتیں کہ تو نے میری زندگی میں ہی اپنے صدق کا نمونہ دکھایا اور جولوگ میری جماعت میں سے میری موت کے بعد رہیں گے میں نہیں جانتا کہ وہ کیا کام کریں گے۔۔اے کابل کی زمین ! تو گواہ رہ کہ تیرے پر سخت جرم کا ارتکاب کیا گیا۔اے بد قسمت زمین ! تو خدا کی نظر سے گر گئی کہ تو اس ظلم عظیم کی جگہ ہے۔“ *11* (تذکرۃ الشہادتین روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 60-74) چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی بھاری غرض وغایت اسلام کی خدمت اور توحید کا قیام تھی اور اس زمانہ میں حقیقی تو حید کا سب سے زیادہ مقابلہ مسیحیت کے ساتھ ہے جو تو حید کی آڑ میں خطر ناک شرک کی تعلیم دیتی اور حضرت مسیح ناصری کو نعوذ باللہ خدا کا بیٹا قرار دے کر حضرت احدیت کے پہلو میں بٹھاتی ہے۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو عیسائیت کے خلاف بڑا جوش تھا اور ویسے بھی آپ کے منصب مسیحیت کا بڑا کام حدیثوں میں کسر صلیب ہی بیان ہوا ہے اس لئے آپ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات پر