مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 48 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 48

مضامین بشیر جلد سوم 48 مخالفت میں کون کھڑا ہوسکتا ہے؟ خدا تعالیٰ نے آدم کو خلیفہ بنایا۔داؤدکوخلیفہ بنایا۔ابوبکر و عمر کو خلیفہ بنایا اور اب نورالدین کو خلیفہ بنایا۔کوئی مخالفت کر کے دیکھ لے کہ کیا نتیجہ ہوتا ہے“ ( بدر جلد 13 نمبر 22) تیسری علامت بچے خلیفہ کی میرے ذوق کے مطابق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کسی نہ کسی صورت میں نبی پر یہ ظاہر فرما دیتا ہے کہ تیرے بعد فلاں فلاں اشخاص تیری بھیٹروں کے گلہ بان بنیں گے اور پھر لوگوں کی ہدایت کے لئے نبی اپنی تحریر و تقریر میں کسی نہ کسی طرح اس کی طرف اشارہ فرما دیتا ہے۔چنانچہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عثمان کی خلافت کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح احادیث موجود ہیں اور میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ثابت کر سکتا ہوں کہ حضرت عمرؓ اور حضرت علی کی خلافت کے متعلق بھی رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال میں واضح ارشادات پائے جاتے ہیں اور ان چاروں خلفاء کی مجموعی خلافت کے طور پر وہ جامع روایت کافی وشافی ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ خلافت راشدہ تمیں سال تک رہے گی اور اس کے بعد ملوکیت شروع ہو جائے گی۔پس غور کیا جائے تو یہ چاروں خلفاء کرام اپنے اپنے رنگ میں موعود تھے۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ کی خلافت کے بارہ میں تو واضح اور بین الہامات اور اشارات موجود ہی ہیں لیکن حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی خلافت کے متعلق بھی بعض اشارات ملتے ہیں۔لیکن اس جگہ اس تفصیل کی گنجائش نہیں۔اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی یہ بھی سنت ہے کہ وہ اپنے نبی کے علاوہ بسا اوقات صالح مومنوں پر بھی خواب وغیرہ کے ذریعہ ہونے والے خلیفہ کے متعلق کچھ نہ کچھ انکشاف فرما دیتا ہے اور یہ سب باتیں خلافت حقہ کی علامات میں داخل ہیں۔اب میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اس مضمون کے اس حصہ کو ختم کر چکا ہوں جو اس وقت میرے مدنظر تھا اور اب آخر میں اپنے عزیزوں اور دوستوں سے صرف اس قدر کہنا چاہتا ہوں کہ کسی عمارت کا گرانا کوئی قابل تعریف کارنامہ نہیں۔ہمارے دوستوں کو عمارتوں کے بنانے اور انہیں مستحکم کرنے اور سجانے کی طرف توجہ دینی چاہئے۔خالق فطرت نے انسان کا کام تعمیری مقرر کیا ہے نہ کہ تخریبی اور خلافت تو حقیقتا ایک بہت ہی بابرکت نظام ہے جو نبوت کے تکملہ کے طور پر خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں قائم کیا جاتا ہے۔پس اس کی قدر کرو۔نبوت کا زمانہ تو گزر گیا اب خلافت کا زمانہ ہے اور اس کے بعد اپنے وقت پر ملوکیت کا زمانہ آئے گا مگر یا درکھو کہ ہر دور اپنے دائرہ کے لحاظ سے گزشتہ دور سے وسیع تر ہونے کے باوجود اپنے سابقہ دور کی نسبت