مضامین بشیر (جلد 3) — Page 49
مضامین بشیر جلد سوم 49 بحیثیت مجموعی برکات میں کم تر ہوتا ہے۔پس اس زمانہ کی قدر کرو کہ پھر خدا جانے کہ کب آدیں یہ دن اور یہ بہار غلطی ہر شخص سے ہو سکتی ہے مگر دانا انسان دوسروں کی خوبیوں سے ان کی قدرو قیمت کو نا پتا ہے نہ کہ اس کی کمزوریوں سے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کئی موقعوں پر اپنی بعض غلطیوں کا ذکر کر کے تاسف کا اظہار کیا مگر اس سے ان کی قدر و قیمت میں کمی نہیں آئی بلکہ اضافہ ہی ہوا اور آج ان کا نام فضاء اسلام میں نیز نصف النہار کی طرح چمک رہا ہے۔تم بھی خلافت احمدیت کے سنہری دور میں سے گزررہے ہو۔پس اس زمانہ کی قدر کو پہچانو اور اپنے پیچھے آنے والوں کے لئے نیک نمونہ چھوڑو تا کہ بعد کی نسلیں تمہیں محبت اور فخر کے ساتھ یاد کریں اور تمہیں احمدیت کے معماروں میں شمار کریں نہ کہ خانہ خرابوں میں۔بس اس کے سوا میں اس وقت کچھ نہیں کہوں گا۔اللہ تعالیٰ ہم سب کے ساتھ ہو اور ہما را حافظ و ناصر رہے اور ہمیں اس رستہ پر چلنے کی توفیق دے جو اس کی رضا کا اور ہماری سعادت کا رستہ ہے۔وَ آخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ نوٹ :۔میں نے یہ مضمون بہت جلدی میں لکھا ہے اور ایسی حالت میں لکھا ہے کہ مجھے بعض دوسرے ہنگامی کاموں کی طرف بار بار توجہ دینی پڑتی تھی۔اس لئے میں اس مضمون کی خاطر خواہ نظر ثانی نہیں کر سکا۔لہذا اگر اس مضمون میں سہواً کوئی فروگزاشت ہو گئی ہو تو وہ انشاء اللہ کسی دوسرے مضمون میں درست کر دی جائے گی۔روزنامه الفضل لا ہور 25 دسمبر 1951ء) خلافت کا دور دائمی ہے یا کہ وقتی ؟ ایک دوست کے ضمنی سوال کا جواب (1) 25 دسمبر 1951 ء کے الفضل میں میرا ایک مضمون مسئلہ خلافت کے متعلق شائع ہوا تھا۔جس میں اصل موضوع تو عزل خلافت کے مسئلہ سے تعلق رکھتا تھا۔لیکن ضمناً بعض دوسری باتوں کا بھی ذکر آ گیا (1) عزل خلافت پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کا یہ دوسرا مضمون ہے جو 1952ء میں تحریر فرمایا۔اس مضمون کو 1952ء میں دینے کی بجائے 1951ء میں پہلے مضمون کے ساتھ دیا جارہا ہے تا قاری کو مجھنے میں آسانی رہے۔مرتب