مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 654 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 654

مضامین بشیر جلد سوم سحر والے مضمون کے متعلق ایک دوست کا سوال میں نے ہرگز یہ نہیں کہا کہ انبیاء، ہر قسم کی بیماری میں مبتلا ہو سکتے ہیں 654 چند دن ہوئے ( غالب 3 جولائی کے الفضل میں ) میرا ایک کسی قدر مفصل مضمون آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر سحر کے مزعومہ واقعہ کے متعلق شائع ہوا تھا جس میں میں نے خدا کے فضل سے قرآن اور حدیث اور تاریخ سے نیز عقلی دلائل سے ثابت کیا تھا کہ جس واقعہ کو ایک یہودی منافق کے سحر کی طرف منسوب کیا جاتا ہے وہ ایک محض نسیان کی بیماری کا وقتی عارضہ تھا۔جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آمدہ حالات کے ماتحت کچھ وقت کے لئے مبتلا ہو گئے تھے۔مگر خدا تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جلد شفا عطا کر کے مخالفوں کے اس باطل پراپیگنڈہ کو ملیا میٹ کر دیا۔اس تعلق میں میں نے ضمنا یہ بات بھی بیان کی تھی کہ انبیاء علیہ السلام بھی بشر ہونے کے لحاظ سے دوسرے انسانوں کی طرح ہوتے ہیں اور وہ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مصلحت سے انہیں کسی خاص بیماری سے محفوظ رکھے اور میں نے اس ضمن میں نمونیہ بعض بیماریوں کے نام بھی لکھے تھے اور میری مراد یہ تھی کہ اس قسم کی بیماریوں میں انبیاء بھی مبتلا ہو سکتے ہیں۔لیکن ایک دوست نے میرے مضمون کا اصل مطلب نہ سمجھتے ہوئے یا اپنے بعض ہم مجلسوں کے اثر کے نیچے یہ اعتراض کیا ہے کہ کیا انبیاء جنون جیسی مرض میں مبتلا ہو سکتے ہیں اور کیا نہیں جزام جیسی گھناؤنی بیماری بھی ہوسکتی وغیرہ ذالک۔مجھے افسوس ہے کہ ہمارے اس دوست نے بالکل غور سے کام نہیں لیا اور یونہی جلد بازی میں یا نا معلوم کسی خارجی اثر کے ماتحت ایک بالبداہت غلط اعتراض کی طرف قدم اٹھایا ہے۔ظاہر ہے کہ اگر میری یہ مراد ہوتی کہ انبیاء ہر قسم کی جسمانی بیماری میں مبتلا ہو سکتے ہیں تو مجھے چند بیماریاں نام لے کر گنانے کی ہرگز ضرورت نہیں تھی۔بلکہ صرف یہ کہہ دینا کافی تھا کہ نبی ہر قسم کی بیماری میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔چند بیماریوں کا نام لے کر ذکر کرنا اس بات کا یقینی ثبوت ہے کہ ان بیماریوں کے گنانے کے بعد میرے مضمون میں جو ” وغیرہ وغیرہ“ کے الفاظ لکھے گئے ہیں ان سے صرف اسی قسم کی دوسری بیماریاں مراد ہیں۔نہ کہ ہر قسم کی دوسری بیماریاں جس کے لئے ہرگز ہرگز بعض بیماریوں کو مثال کے طور پر شمار کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔یہ کیسی موٹی بات ہے جس کے لئے ہمارے مہربان دوست سے بہت ادنی عقل والے آدمی کی عقل بھی کافی ہو سکتی تھی۔باقی رہیں جنون اور جزام وغیرہ کی بیماریاں جن کا معترض صاحب نے نام لے کر ذکر فرمایا ہے۔سو کیا ہمارے دوست کو یہ بات معلوم نہیں کہ ان اقسام کی بیماریوں کے متعلق قرآن مجید واضح طور پر نبیوں کے بارے میں نفی