مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 653 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 653

مضامین بشیر جلد سوم 653 الَّذِي أَصَابَهُ كَانَ مِنْ جِنْسِ الْمَرَضِ بَقُولِهِ فِى أَخِرُ الْحَدِيثِ إِمَّا أَنَّهُ فَقَدْ شَفَانِي فتح الباری شرح بخاری جلد نمبر 10 صفحه 177) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو یہ عارضہ نسیان کا پیش آیا تو یہ بیماریوں میں سے ایک بیماری تھی جیسا کہ حدیث کے ان آخری الفاظ سے ظاہر ہے کہ اللہ نے مجھے شفا دے دی ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ حالت جسے دشمنوں کے سحر کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے وہ ہر گز کسی سحر وغیرہ کا نتیجہ نہیں تھی۔بلکہ پیش آمدہ حالات کے ماتحت محض نسیان کی بیماری تھی۔جسے بعض فتنہ پرداز لوگوں نے رسول پاک کی ذاتِ والا صفات کے خلاف پراپیگنڈے کا ذریعہ بنالیا۔قرآن مجید نبیوں پر سحر کے قصہ کو دور سے ہی دھکے دیتا ہے۔عقل انسانی اسے قبول کرنے سے انکار کرتی ہے۔حدیث کے الفاظ اس تشریح کو جھٹلاتے ہیں جو اس پر مڑھی جارہی ہے۔اور خود سرور کائنات افضل الرسل کا ارفع مقام سحر والے قصے کے تار پود بکھیر رہا ہے۔قباتِي حَدِيثٍ بَعْدَ ذَالِكَ يُؤْمِنُوْنَ۔وَآخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ - نوٹ : اس جگہ یہ نوٹ کرنا بھی خالی از فائدہ نہ ہوگا کہ جیسا کہ حضرت خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی روایت کے مطابق سیرۃ المہدی حصہ اول کی روایت نمبر 75 میں مذکور ہے ایک دفعہ ایک متعصب ہند و جو گجرات کا رہنے والا تھا قا دیان آیا تھا۔اور وہ علم توجہ یعنی ہینوٹزم کے سحر کا بڑا ماہر تھا اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں حاضر ہو کر آپ پر خاموشی کے ساتھ توجہ ڈالنی شروع کی تا کہ آپ سے بعض نازیبا حرکات کرا کے آپ کو لوگوں کی ہنسی کا نشانہ بنائے مگر جب اس نے آپ پر توجہ ڈالی تو وہ چیخ مار کر بھاگا۔اور جب اس سے پوچھا گیا کہ تمہیں یہ کیا ہوا تھا تو اس نے جواب دیا کہ جب میں نے مرزا صاحب پر توجہ ڈالی تو مجھے یوں نظر آیا کہ میرے سامنے ایک خوفناک شیر کھڑا ہے جو مجھ پر حملہ کرنے والا ہے اور میں اس سے ڈر کر بھاگ نکلا۔تو جب خادم کا یہ مقام ہے تو آقا کے متعلق یہ خیال کرنا کہ آپ نعوذ باللہ ایک یہودی کے مہینوٹزم کا نشانہ بن گئے تھے کس طرح قبول کیا جاسکتا ہے۔۔( محرره 26 جون 1959 ء ) (روز نامه الفضل ربوہ 3 جولائی 1959ء)