مضامین بشیر (جلد 3) — Page 637
مضامین بشیر جلد سوم 637 سوجس نے ایسا کیا اس نے ہماری سنت کو پا لیا۔اوپر کی حدیث میں ایک طرح سے سنت کا لفظ بھی آ گیا ہے اور چونکہ یہ اصطلاحی طور پر استعمال نہیں ہوا اس لئے اس سے وجوب کا پہلو بھی مراد ہوسکتا ہے۔اور ایک موقع پر آپ نے فرمایا کہ مَنْ وَجَدَ سَعَةٌ وَلَمْ يُضَّحُ فَلَا يَقْرِبْنَ مَصَلَّانَا (مسند احمد جلد 2 صفحہ 321) یعنی جس شخص کو مالی لحاظ سے توفیق ہو اور پھر وہ عید الاضحی کے موقع پر قربانی نہ کرے اس کا کیا کام ہے کہ ہماری عید گاہ میں آکر نماز میں شامل ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد جس تاکید کا حامل ہے وہ کسی تشریح کی محتاج نہیں۔اور جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر دوسرے ارشاد کو مقبولیت کی برکت حاصل ہوئی۔اسی طرح اس ارشاد کو بھی صحابہ کرام نے اپنے حرز جان بنایا۔چنانچہ حدیث میں لکھا ہے۔عَنْ جَبِلَّةَ بنِ سَحِيمٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْأَضْحِيَّةِ أَوْ أَجِبَةٌ هِيَ فَقَالَ ضَحْى وَالْمُسْلِمُونَ فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ فَقَالَ الْتَقِلْ ضَحَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُونَ۔(ترندی) یعنی جبلہ ابن تیم روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر سے دریافت کیا کہ کیا عید الاضحیٰ کی قربانی واجب ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی قربانی کرتے تھے اور آپ کی اتباع میں صحابہ بھی قربانی کرتے تھے۔اس شخص نے اپنے سوال کو پھر دُہرایا اور کہا کیا قربانی واجب ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے فرمایا کہ تم میری بات سمجھ نہیں سکے۔میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی قربانی کیا کرتے تھے اور آپ کے ساتھ دوسرے مسلمان بھی کرتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کام صرف شوق کی خاطر یا دوستوں اور غریبوں کو گوشت کھلانے کی غرض سے نہیں تھا بلکہ اسے ایک دینی کام سمجھتے اور بھاری ثواب کا موجب خیال فرماتے تھے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ رض عن زيد بن ارقم قَالَ قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُول اللَّهِ مَا هذِهِ الْاضَاحِيَ قَالَ سُنَّةُ أَبِيْكُمْ إِبْرَاهِيمَ قَالُوْا فَمَا لَنَا فِيْهَا يَا رَسُوْلَ اللَّهِ قَالَ بِكُلِّ شِعْرَةٍ حَسَنَةٍ (ابن ماجه ومسند احمد بحوالہ مشکوۃ شریف) یعنی زید بن ارقم روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے آپ سے دریافت کیا