مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 638 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 638

مضامین بشیر جلد سوم کہ یارسول اللہ یہ عید الاضحیٰ کی قربانیاں کیسی ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ تمہارے باپ ابراہیم کی انہوں نے پوچھا کہ ان میں کتنا ثواب ہے؟ 638 آپ نے فرمایا۔قربانی کے جانور کے جسم کے ہر بال میں قربانی کرنے والے کے لئے ایک نیکی ہے جوا سے خدا سے اجر پانے کی مستحق بنائے گی۔ایک اور موقع پر آپ نے نہ صرف اپنی طرف سے قربانی کی بلکہ تحریک اور تاکید کی غرض سے اپنی امت کی طرف سے بھی قربانی دی۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ عَنْ عَائِشَةٌ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِكَمُشِ ثُمَّ ذَبَحَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ تَقَبَّلُ مِنْ مُحَمَّدٍ وَ آل مُحَمَّدٍ وَ مِنْ أُمَّةٍ مُحَمَّدٍ ( صحيح مسلم ) یعنی عائشہ روایت کرتی ہیں کہ عید کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دنبہ منگوایا۔پھر اسے خود اپنے ہاتھ سے ذبح کیا اور کہا کہ میں یہ دُنبہ خدا کے نام سے ذبح کرتا ہوں اور پھر دعا فرمائی کہ اے میرے خدا اس قربانی کو تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف سے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی آل کی طرف سے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ساری اُمت کی طرف سے قبول فرما۔کیا ان واضح اور قطعی روایتوں کے ہوتے ہوئے جو صرف نمونہ کے طور پر لی گئی ہیں کوئی سچا اور واقف کار مسلمان اس بات کے کہنے کی جرات کر سکتا ہے کہ قربانی صرف حاجیوں کے لئے ہے اور غیر حاجیوں کے لئے عید الاضحیٰ کے موقع پر کوئی قربانی مقرر نہیں۔بے شک یہ درست ہے قربانی صرف طاقت رکھنے والوں پر واجب ہے اور بعض احادیث سے یہ پتہ بھی لگتا ہے کہ اگر سارے گھر کی طرف سے ایک مستطیع شخص قربانی کر دے تو یہ قربانی سب کی طرف سے سمجھی جاسکتی ہے ( نسائی و ترمندی بحوالہ مشکوۃ ) مگر بہر حال عید الاضحی کے موقع پر حسب توفیق قربانی کرنا ہمارے رسول (فداہ نفسی) کی ایک سنت ہے۔جس کے متعلق ہمارے آقا نے تاکید فرمائی اور اسے بھاری ثواب کا موجب قرار دیا ہے۔اس موقع پر لوگ یہ سوال اٹھایا کرتے ہیں کہ بیشک حدیثوں میں عید الاضحیٰ کی قربانی کا ثبوت ملتا ہے۔لیکن چونکہ قرآن شریف میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے اس لئے ایک زائد قسم کی بات سمجھی جائے گی جسے زمانے کے حالات کے تحت ترک کیا جا سکتا ہے۔مگر یہ نظریہ بالکل الحاد اور اباحت اور زندیقی رجحانات سے معمور ہے۔کیا قرآن شریف نے یہ نہیں فرمایا کہ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب:22)