مضامین بشیر (جلد 3) — Page 628
مضامین بشیر جلد سوم 628 کے ایک پوتے نصیر الدین صاحب پسر ڈاکٹر بدرالدین صاحب اس وقت افریقہ میں مبلغ ہیں اور خان صاحب کے ایک نواسے شیخ خورشید احمد صاحب الفضل کے اسٹنٹ ایڈیٹر ہیں۔خدا تعالیٰ خان صاحب مرحوم کو غریق رحمت کرے اور ان کے جملہ پسماندگان کا حافظ و ناصر ہو۔خان صاحب کی موجودہ اہلیہ حضرت بھائی چوہدری عبدالرحیم صاحب کی بڑی صاحبزادی ہیں۔حضرت بھائی صاحب سکھ سے مسلمان ہوئے تھے جس کے بعد وہ علم دین سیکھ کر نہ صرف ایک عالم دین بن گئے بلکہ صاحب کشف والہام کے درجہ کو پہنچے۔محرره 13 جون 1959 ء ) روزنامه الفضل ربوه 16 جون 1959 ء ) حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے لئے خاص دعا کی تحریک حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے لئے الفضل میں روزانہ دعا کی تحریک چھپ رہی ہے اور یہ خاکسار بھی اس تعلق میں کئی تحریکیں کر چکا ہے۔بلکہ حق یہ ہے کہ امام کا مقام اور پھر خصوصیت سے حضرت خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کا مقام تو ایسا ہے کہ احباب جماعت کو کسی قسم کی تحریک کے بغیر ہی دعائیں کرتے رہنا چاہئے۔اور میں جانتا ہوں کہ جماعت کے مخلصین کو از خود اس امر کی طرف غیر معمولی توجہ ہے۔جو خدا کے فضل سے جماعت کے اخلاص اور روحانی زندگی کی علامت ہے۔لیکن پھر بھی چونکہ قرآن مجید تذکیر یعنی بار بار کی یاد دہانی کا حکم دیتا ہے اس لئے میں اس نوٹ کے ذریعہ اپنے بھائی بہنوں کو پھر اس ضروری امر کی طرف توجہ دلا رہا ہوں۔دنیا داروں کی نظر میں تو دعا نعوذ باللہ ایک عبث فعل ہے بلکہ خود مسلمانوں کا ایک طبقہ بھی دعا کو ایک عبادت سے زیادہ حیثیت نہیں دیتا۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طفیل جن کے ذریعہ اسلام کا دوبارہ احیاء ہوا ہے ہماری جماعت خدا کے فضل سے اس بات کو اچھی طرح جانتی اور سمجھتی ہے کہ دعا ایک زبر دست طاقت ہے۔جو ایٹم بم سے بڑھ کر زمین آسمان میں تغیر عظیم پیدا کر سکتی ہے اور کرتی رہی ہے۔ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: لَا يُرَدُّ الْقَضَاءَ إِلَّا الدُّعَاء