مضامین بشیر (جلد 3) — Page 550
مضامین بشیر جلد سوم 550 ہے۔ان کی آریہ سماج کے مقابل تحریروں سے اس دعوی پر نہایت صاف روشنی پڑتی ہے کہ آئندہ ہماری مدافعت کا سلسلہ خواہ کسی درجہ تک وسیع ہو جائے ناممکن ہے کہ یہ تحریر میں نظر انداز کی جاسکیں۔“ پھر دہلی کے غیر احمدی اخبار ” کرزن گزٹ نے اپنے اخبار میں لکھا کہ: ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ کسی بڑے سے بڑے آریہ اور بڑے سے بڑے پادری کو یہ۔۔مجال نہ تھی کہ وہ مرحوم مرزا صاحب کے مقابلہ پر زبان کھول سکتا۔اگر چہ مرحوم پنجابی تھا مگر اس کے قلم میں اس قدر قوت تھی کہ آج سارے پنجاب بلکہ بلندی ہند میں بھی اس قوت کا کوئی لکھنے والا نہیں۔“ پس اس نوٹ کے عنوان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جو شاندار مصرع درج ہے وہ کسی نا واجب فخر و افتخار کی پیداوار نہیں بلکہ ایک زبر دست حقیقت ہے جو تلوار سے زیادہ کاٹنے والی اور دلوں کی گہرائیوں میں گھر کرنے والی ہے۔اور اس سے اس اعتراض کا جواب بھی ہو جاتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے نعوذ باللہ تلوار کے جہاد کو منسوخ کر دیا ہے۔عزیز و اور دوستو سوچو اور سمجھو کہ حضرت مرزا صاحب جو اسلام کی خدمت اور دین کے احیاء کے لئے مبعوث ہوئے تھے وہ کس طرح کسی اسلامی تعلیم کو منسوخ کر سکتے تھے۔پس اگر تلوار کے جہاد کو کسی نے وقتی طور پر معلق کیا ہے ( منسوخی کا تو سوال ہی نہیں ) تو وہ زمانہ کے حالات نے کیا ہے۔اور اسلام کی اس اصولی تعلیم نے کیا ہے جو آج سے چودہ سوسال پہلے نازل ہو چکی ہے جس میں جہاد کا تو بہر حال اور بہر صورت حکم ہے مگر اس کی نوعیت کو زمانہ کے حالات اور وقت کے تقاضوں اور مخالفوں کے رویہ پر چھوڑا گیا ہے۔اور پھر کیا حضرت مرزا صاحب کے شاندار اور عدیم المثال قلمی جہاد نے تلوار کے جہاد کی کوئی ضرورت باقی چھوڑی ہے؟ خدائی احکام ہمیشہ بنی نوع انسان کی ضرورت پر مبنی ہوا کرتے ہیں۔کیونکہ خدا حکیم ہے اور حکیم ہستی کے احکام ہمیشہ حکمت پر بنی ہوتے ہیں۔اگر مخالفوں کی طرف سے اسلام کے خلاف قلم اور زبان کے ذریعہ حملہ ہو تو اس کا طبعی رڈ اور فطری جواب جو دلوں میں حقیقی اطمینان پیدا کر سکتا ہے وہ صرف قلم اور زبان کے ذریعہ ہی ہو سکتا ہے اور اسی کی طرف حضرت مسیح موعود نے اپنے اس لطیف مصرع میں اشارہ فرمایا ہے جو اس مضمون میں زیب عنوان ہے۔مگر اس جگہ مجھے جہاد کا فلسفہ بیان کرنا مطلوب نہیں ہے بلکہ اپنی ایک رؤیا کی بناء پر جماعت کے نوجوانوں کو اسلام اور احمدیت کی قلمی خدمت کی طرف توجہ دلانا اصل مقصد ہے۔چند دن ہوئے میں نے ایک عجیب رویا دیکھا جس سے میں ڈرا بھی اور خوش بھی ہوا۔میں نے دیکھا کہ کسی نے مجھے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کا لکھا ہوا ایک لمبا سا خط لا کر دیا ہے۔یہ خط میرے نام ہے۔میں نے خط پڑھنے سے