مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 549 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 549

مضامین بشیر جلد سوم 549 (البقره: 257 ) تلوار کا جواب تلوار سے دینا ہوگا۔اور اگر دشمن کا حملہ دلائل اور عقلی اور نقلی اعتراضوں کے رنگ میں ہو تو اس وقت اسلام کا جہاد بھی اسی میدان کے اندر محدود ہو جائے گا۔اور اگر کسی وقت مسلمانوں کی اپنی بداعمالی اسلام کو بدنام کرنے کا باعث بن رہی ہو تو اس وقت سب سے مقدم جہاد مسلمانوں کی تربیت اور ان کی اخلاقی اور روحانی اصلاح سے تعلق رکھے گا وغیرہ وغیرہ۔چنانچہ ایک موقع پر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک وقت تلوار کے جہاد سے وقتی طور پر فارغ ہوئے تو آپ نے میدانِ کارزار سے مدینہ کی طرف لوٹتے ہوئے فرمایا: رَجَعْنَا مِنَ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إِلَى الْجِهَادِ الْاكْبَر۔( صحیح بخاری کتاب الجہاد ) یعنی اب ہم چھوٹے جہاد سے فارغ ہو کر بڑے جہاد یعنی اپنے نفسوں کے ساتھ جہاد کرنے کی طرف لوٹ رہے ہیں۔اسی اصولی تعلیم کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی سلسلہ احمدیہ نے وہ مصرع ارشاد فرمایا ہے جو اس مختصر سے نوٹ کے عنوان کی زینت ہے۔اور آپ کا منشاء یہ ہے کہ یہ زمانہ اپنے وقتی تقاضوں اور پیش آمدہ حالات اور مخالفوں کے رویہ کے مطابق تلوار کے جہاد کا زمانہ نہیں ہے بلکہ قلم کے جہاد کا زمانہ ہے۔جب کہ مخالفین اسلام کی طرف سے اسلام کے خلاف معاندانہ لٹریچر کے ذریعہ بے پناہ حملے کئے جارہے ہیں۔ایسے وقت میں اصل جہاد قلم کا جہاد ہے تاکہ قلم کے ذریعہ غیر مسلموں کے اعتراضوں کا ایسا دندان شکن جواب دیا جائے کہ ان کے قلموں اور ان کی زبانوں کی گولہ باری پر موت وارد ہو جائے۔اور یہی رستہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدائی منشاء کے ماتحت اختیار کیا۔چنانچہ آپ کی اس عدیم المثال خدمت کا اعتراف مخالفوں تک نے ایسے شاندار رنگ میں کیا ہے کہ اس تعریف سے ملک کی مخالفانہ فضا تک گونجنے لگ گئی۔مثال کے طور پر امرتسر کے مشہور اخبار وکیل کے غیر احمدی ایڈیٹر نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر لکھا: ”مرزا صاحب کا لٹریچر جو مسیحیوں اور آریوں کے مقابلہ پر ان سے ظہور میں آیا قبول عام کی سند حاصل کر چکا ہے۔اس لٹریچر کی قدر و عظمت آج جب کہ وہ اپنا کام پورا کر چکا ہے ہمیں دل سے تسلیم کرنی پڑتی ہے۔اس مدافعت نے نہ صرف عیسائیت کے اس ابتدائی اثر کے پر خچے اڑا دئے جو سلطنت کے سایہ میں ہونے کی وجہ سے حقیقت میں اس کی جان تھا۔بلکہ خود عیسائیت کا طلسم دھواں ہو کر اڑنے لگا۔اس کے علاوہ آریہ سماج کی زہریلی کچلیاں توڑنے میں بھی مرزا صاحب نے اسلام کی بہت خاص خدمت سرانجام دی