مضامین بشیر (جلد 3) — Page 548
مضامین بشیر جلد سوم 548 طرف روانہ ہوا اور پھر رات کے آخری حصہ میں سحری کے وقت تین بجے کے قریب احباب جماعت کے کندھوں پر قادیان کی طرف روانہ ہوا تھا۔رستہ میں دیوانی وال کے تکیہ میں دوستوں نے صبح کی نماز ادا کی اور پھر قریباً نو بجے صبح جنازہ قادیان پہنچا۔گویا: (1) لاہور میں جنازہ کی نماز خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان کے صحن میں نہیں ہوئی تھی بلکہ ڈاکٹر سید محمدحسین شاہ صاحب کے مکان کے نچلے صحن میں ہوئی تھی۔(2) جنازہ راتوں رات قادیان نہیں پہنچایا گیا بلکہ وہ بٹالہ سے تین بجے (سحری کے وقت روانہ ہوا تھا۔اور صبح نو بجے کے قریب قادیان پہنچا تھا۔دوست اس روایت کی تصحیح فرما لیں۔یہ بھی ممکن ہے کہ یہ روایت ”سیرۃ المہدی“ میں بھی غلط چھپ گئی ہو۔اس لئے ”سلسلہ احمدیہ اور سیرۃ المہدی“ دونوں میں درستی کر لی جائے۔(محررہ 18 اکتوبر 1958ء) روزنامه الفضل ربوہ 23 اکتوبر 1958ء) وو سیف کا کام قلم سے ہے دکھایا ہم نے“ دوستوں کو علمی اور تحقیقی مضامین لکھنے کی دعوت عنوان میں درج شدہ مصرع حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک لطیف لنظم کا حصہ ہے جس کے شروع میں یہ شعر آتا ہے کہ: ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے کوئی دیں دین محمد سا نہ پایا ہم نے اس مصرع کا مطلب اور مقصد یہ ہے کہ گو اسلام نے مسلمانوں پر جہاد فرض کیا ہے اور مومنوں کو حکم دیا ہے کہ ان میں سے ایک طبقہ لازما دین کی خدمت اور دین کے رستہ میں جدو جہد کے لئے وقف رہنا چاہئے۔مگر مختلف قسم کے حالات کے ماتحت دین کی خدمت مختلف رنگ اختیار کرسکتی ہے۔بعض حالات میں جب کہ کوئی دشمن اسلام کو مٹانے کی غرض سے جبر اور تشدد کا رستہ اختیار کر کے مسلمانوں کے خلاف تلوار اٹھائے تو اس وقت اپنے دفاع کے لئے (نہ کہ مخالفوں کو جبراً مسلمان بنانے کے لئے کیونکہ لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ