مضامین بشیر (جلد 3) — Page 34
مضامین بشیر جلد سوم استحکام ہوتا ہے“ 34 (الحکم مورخہ 14 اپریل 1908ء) دوسری جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت ایک بے وقت موت سمجھی گئی اور بہت سے بادیہ نشین نادان مرتد ہو گئے اور صحابہ بھی مارے غم کے دیوانہ کی طرح ہو گئے تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابو بکر صدیق کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا اور اسلام کو نابود ہوتے ہوتے تھام لیا اور اس وعدہ کو پورا کیا جو فرمایا تھا کہ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمنًا (النور: 55) یعنی خوف کے بعد پھر ہم ان کے پیر جمادیں گے ایسا ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں ہوا۔۔۔۔اور ایسا ہی حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ معاملہ ہوا۔۔۔سوالے عزیز و! جبکہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے۔سواب ممکن نہیں کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے۔۔۔۔۔میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے ( رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 305-306) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان حوالوں سے ثابت ہے کہ نہ صرف یہ کہ خلیفہ خدا تعالیٰ بناتا ہے اور ہر مامور کے وقت میں خدا تعالیٰ کی یہی سنت رہی ہے بلکہ یہ بھی کہ حضرت ابو بکڑ کی خلافت ( اور اسی اصل کے ما تحت حضرت عمرؓ اور دوسرے خلفاء کی خلافت بھی ) سورۃ نور کی آیت استخلاف کے ماتحت تھی اور پھر ان حوالوں سے یہ بات بھی قطعی طور پر ثابت ہوتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد بھی خلفاء کا سلسلہ چلے گا جنہیں خدا خود قائم فرمائے گا۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صاف لکھا ہے کہ بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے اس کے بعد حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا جبکہ بعض خام خیالوں نے اس زمانہ کے جمہوری اور دستوری نظاموں سے متاثر ہو کر اور روحانی اور مادی نظاموں کے فرق کو بالکل نظر انداز کرتے ہوئے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی خلافت پر اعتراض کرنے شروع کئے اور آپ کے عزل کی سکیمیں بنائیں اس پر حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے جوارشادات فرمائے ان میں سے بعض ملاحظہ ہوں۔فرماتے ہیں۔سن لو کہ نہ مجھے کسی انسان نے اور نہ انجمن نے خلیفہ بنایا ہے۔اور نہ میں کسی انجمن کو اس قابل سمجھتا