مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 35 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 35

مضامین بشیر جلد سوم 35 ہوں کہ وہ خلیفہ بنائے۔پس مجھے نہ کسی انجمن نے خلیفہ بنایا اور نہ میں اس کے بنانے کی کچھ قدر کرتا ہوں اور اس کے چھوڑ دینے پر تھوکتا بھی نہیں۔اور نہ اب کسی میں طاقت ہے کہ وہ اس خلافت کی ردا ( چادر ) مجھ سے چھین لئے پھر فرماتے ہیں کہ ( بدر 4 جولائی 1912ء) مجھے اگر خلیفہ بنایا ہے تو خدا نے بنایا ہے اور اپنے مصالح سے بنایا ہے۔خدا کے بنائے ہوئے خلیفہ کو کوئی طاقت معزول نہیں کر سکتی۔۔۔اگر خدا تعالیٰ نے مجھے معزول کرنا ہوگا تو وہ مجھے موت دے دے گا۔تم اس معاملہ کو خدا کے حوالہ کرو۔تم معزولی کی طاقت نہیں رکھتے جھوٹا ہے وہ شخص جو کہتا ہے کہ ہم نے خلیفہ بنایا ہے (الحلم 21 جنوری 1914ء) حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے یہ حوالے جو اسی قسم کے بیسیوں حوالوں میں سے صرف نمونہ کے طور پر لئے گئے ہیں کتنے واضح اور کتنے زور دار ہیں اور پھر اس مرکزی نکتہ کے علاوہ کہ خلیفہ خدا بنا تا ہے ان حوالوں میں یہ لطیف نکتہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اگر بالفرض کسی خلیفہ کے متعلق خدا تعالیٰ یہ دیکھے کہ وہ جسمانی کمزوری کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے خلافت کے فرائض کے قابل نہیں رہا تو وہ اسے خود وفات دے کر اس دنیا سے اٹھالیتا ہے۔لیکن کسی صورت میں اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ لوگ اس کے بنائے ہوئے خلیفہ کومعزول کر یں اور نہ ایسی معزولی ک کسی کو اختیار ہے۔اس کے بعد حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ کا زمانہ آتا ہے۔سو اس زمانہ کے تعلق میں یہ بات تو معروف اور مسلّم ہی ہے کہ اس خلافت کے آغاز میں غیر مبائعین کا فتنہ ہی یہ تھا کہ وہ خلافت کو اڑانا چاہتے تھے اور کم از کم اسے ایک معمولی رسمی سی امامت کا رنگ دے کر انجمن کے ماتحت رکھنا چاہتے تھے اور اسی بناء پر یہ لوگ جماعت سے کٹ گئے۔اس لئے اس زمانہ کے تعلق میں زیادہ حوالوں کی ضرورت نہیں ہے۔صرف حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کے اس آخری اعلان پر اکتفا کرتا ہوں جو اخبار ” الرحمت“ کے مضمون کے جواب میں حضور نے ابھی ابھی شائع فرمایا ہے۔حضور فرماتے ہیں۔اگر خلیفہ اسلام میں معزول ہوسکتا ہے تو یقیناً حضرت علی مجرم ہیں کیونکہ ان کی اپنی جماعت کے ایک حصہ نے کہہ دیا تھا کہ ہم آپ کو خلافت سے معزول سمجھتے ہیں لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تلوار میان سے