مضامین بشیر (جلد 3) — Page 532
مضامین بشیر جلد سوم 532 خلیفہ برحق کی یہ ڈہری علامت ہے کہ (1) وہ مومنوں کے انتخاب سے قائم ہو اور (2) خدا تعالیٰ اپنے فعل سے اس کی نصرت اور تائید میں کھڑا ہو جائے اور اس کے ذریعہ دین کو تمکنت پہنچے۔اس کے سوا بعض اور علامتیں بھی ہیں مگر اس جگہ اس تفصیل کی گنجائش نہیں۔خلافت کی برکات جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے خلافت کا نظام ایک بہت ہی مبارک نظام ہے جس کے ذریعہ آفتاب نبوت کے ظاہری غروب کے بعد اللہ تعالیٰ ماہتاب نبوت کے طلوع کا انتظام فرماتا ہے اور الہی جماعت کو اُس دھکے کے خطرات سے بچالیتا ہے جو نبی کی وفات کے بعد نوزائیدہ جماعت پر ایک بھاری مصیبت کے طور پر وارد ہوتا ہے۔نبی کا کام جیسا کہ قرآن شریف کے مطالعہ سے پتہ لگتا ہے تبلیغ ہدایت کے ساتھ ساتھ مومنوں کی جماعت کی دینی تعلیم ، ان کی روحانی اور اخلاقی تربیت اور ان کی تنظیم سے تعلق رکھتا ہے۔اور یہ سارے کام نبی کی وفات کے بعد خلیفہ وقت کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں جس کا وجود جماعت کو انتشار سے بچا کر انہیں ایک مضبوط لڑی میں پروئے رکھتا ہے۔علاوہ ازیں نبی کا وجود جماعت کے لئے محبت اور اخلاص کے تعلقات کا روحانی مرکز ہوتا ہے جس کے ذریعہ وہ اتحاد اور یکجہتی اور باہمی تعاون کا زریں سبق سیکھتے ہیں اور خلیفہ کا وجود اس درس وفا کو جاری اور تازہ رکھنے کا ذریعہ بنتا ہے۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت کے وجود کو جو ایک ہاتھ پر جمع ہونے کی وجہ سے خلیفہ کے وجود کے ساتھ لازم و ملزوم ہے ایک بہت بڑی نعمت قرار دیا ہے اور اسے انتہائی اہمیت دی ہے اور جماعت میں انتشار پیدا کرنے والوں پر لعنت بھیجی ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں مَن شَدَّ شُدَّ فِي النَّارِ یعنی جو شخص جماعت سے کتنا اور اس کے اندر تفرقہ پیدا کرتا ہے وہ اپنے لئے آگ کا رستہ کھولتا ہے۔اور دوسری جگہ فرماتے ہیں عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَ سُنَّةَ الْخُلَفَاءَ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ۔یعنی اے مسلمانو ! تم پر تمام دینی امور میں میری سنت پر عمل کرنا فرض ہے اور میرے بعد میرے خلفاء کے زمانہ میں ان کی سنت پر عمل کرنا بھی واجب ہوگا کیونکہ وہ خدا کی طرف سے ہدایت یافتہ ہوں گے۔پس خلافت کا نظام ایک نہایت ہی بابرکت نظام ہے جس کے ذریعہ جماعتی اتحاد اور مرکزیت کے علاوہ جس کی ہر نوزائیدہ جماعت کو بھاری ضرورت ہوتی ہے نبوت کا نور جماعت کے سر پر جلوہ افروز رہتا ہے اور یہ ایک بہت بڑی نعمت اور بہت بڑی برکت ہے۔