مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 533 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 533

مضامین بشیر جلد سوم خلافت کے اختیارات 533 اگلا سوال خلافت کے اختیارات سے تعلق رکھتا ہے۔سو اس سوال کے جواب کو سمجھنے کے لئے بنیادی نکتہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ خلافت ایک روحانی نظام ہے جس میں حکومت کا حق اوپر سے نیچے کو آتا ہے اور چونکہ خلافت کا نظام نبوت کے نظام کی فرع ہے اور دوسری طرف شریعت ہمیشہ کے لئے مکمل ہو چکی ہے اس لئے جس طرح شریعت کی حدود کے اندر اندر نبوت کے اختیارات وسیع ہیں یعنی ایک خلیفہ اسلامی شریعت کی حدود کے اندراندر اور اپنے نبی متبوع کی سنت کے تابع رہتے ہوئے الہی جماعت کے نظم ونسق میں وسیع اختیارات رکھتا ہے۔موجودہ زمانہ کے جمہوریت زدہ نوجوان اس بات پر حیران ہوتے ہیں کہ ایک واحد شخص کے اختیارات کو اتنی وسعت کس طرح حاصل ہو سکتی ہے۔لیکن انہیں سوچنا چاہئے کہ اول تو خلافت کسی جمہوری اور دنیوی نظام کا حصہ نہیں ، بلکہ روحانی اور دینی نظام کا حصہ ہے جس کا حق خدا تعالیٰ کے ازلی حق کا حصہ بن کر اوپر سے نیچے کو آتا ہے اور خدا کا سایہ خلفاء کے سر پر رہتا ہے۔دوسرے جب ایک خلیفہ کے لئے شریعت کی اپنی حدود معتین ہیں اور نبی متبوع کی سنت کی چاردیواری بھی موجود ہے تو ان ٹھوس قیود کے ماتحت اس کے اختیارات کی وسعت پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟ نبی کے بعد خلیفہ کا وجود یقیناً ایک نعمت اور رحمت ہے اور رحمت کی وسعت بہر حال برکت کا موجب ہوتی ہے نہ کہ اعتراض کا ! بایں ہمہ اسلام یہ ہدایت دیتا ہے کہ چونکہ خلیفہ کے انتخاب میں بظاہر لوگوں کی رائے کا بھی دخل ہوتا ہے اس لئے اسے تمام اہم امور میں مومنوں کے مشورہ سے کام کرنا چاہئے۔بے شک وہ اس بات کا پابند نہیں کہ لوگوں کے مشورہ کو ہر صورت میں قبول کرے لیکن وہ مشورہ حاصل کرنے کا پابند ضرور ہے تا کہ اس طرح ایک طرف تو جماعت میں ملکی اور دینی سیاست کی تربیت کا کام جاری رہے اور دوسری طرف عام کاموں میں مشورہ قبول کرنے سے جماعت میں زیادہ بشاشت کی کیفیت پیدا ہولیکن خاص حالات میں وَ إِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّه کا مقام بھی قائم رہے۔یہ ایک بہت لطیف فلسفہ ہے وَلَكِنْ قَلِيْلاً مَّا يَتَفَكَّرُوْنَ۔خلافت سے عزل کا سوال جن لوگوں نے خلافت کے مقام کو نہیں سمجھا وہ بعض اوقات اپنی نادانی سے خلیفہ کے عزل کے سوال میں اُلجھنے لگتے ہیں۔وہ دنیا کے جمہوری نظاموں کی طرح خلافت کو بھی ایک دنیوی نظام خیال کر کے حسب ضرورت خلیفہ کے عزل کا رستہ تلاش کرنا چاہتے ہیں۔یہ ایک انتہا درجہ کی جہالت کا خیال ہے جو خلافت کے