مضامین بشیر (جلد 3) — Page 513
مضامین بشیر جلد سوم 513 اس مشہور مثال کے مطابق کہ لوہا اس وقت اچھی طرح کوٹا جاسکتا ہے جب کہ وہ گرم اور نرم ہو۔رمضان کے مہینہ کو اصلاح نفس کے ساتھ خاص جوڑ ہے۔پس ہمارے بھائیوں اور بہنوں کو چاہئے کہ وہ موجودہ رمضان میں بھی اس زریں موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کریں اور اپنی کسی خاص کمزوری کو سامنے رکھ کر دل میں خدا سے عہد کریں کہ وہ انشاء اللہ ہمیشہ اس کمزوری سے الگ رہیں گے اور کبھی اس کے مرتکب نہیں ہوں گے۔اس عہد کو کسی پر ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ ظاہر کر نا عام حالات میں خدا کی ستاری کے خلاف ہے۔اس لئے صرف دل میں عہد کرنا کافی ہے مگر یہ عہد ایسا ہو کہ ” جان جائے مگر بات نہ جائے“ کا مصداق بن جائے۔کیونکہ وَكَانَ عَهْدُ اللهِ مَسْئُولًا (الاحزاب: 16)۔یعنی خدا کے ساتھ کئے ہوئے ہر عہد کے متعلق قیامت کے دن پرسش ہوگی۔اس عہد کے لئے ہر انسان اپنے نفس کے محاسبہ کے ذریعہ اپنے واسطے خود کسی کمزوری کا انتخاب کر سکتا ہے۔مگر بہتر ہوگا کہ ایسی کمزوری کو چنا جائے جو دوسروں کے لئے ٹھوکر یا خراب نمونہ کا موجب بن رہی ہو اور جماعت کی بدنامی کا باعث ہو۔لیکن اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر خواہ کوئی کمزوری ہو جسے انسان اپنے حالات کے ما تحت جلد تر ترک کرنے کی طاقت رکھتا ہو اس کے متعلق عہد کیا جاسکتا ہے۔اور یا د رکھنا چاہئے کہ ایک کمزوری کا ترک کرنا اسی طرح دوسری کمزوریوں کو ترک کرنے کی طاقت پیدا کرتا ہے جس طرح ایک نیکی کا اختیار کرنا دوسری نیکیوں کا رستہ کھولتا ہے۔ذیل میں مثال کے طور پر چند معروف کمزوریوں کا ذکر کیا جاتا ہے تا دوستوں کو انتخاب میں سہولت پیدا ہو۔(1) سب سے اول نمبر پر نماز میں سستی ہے اور نماز میں ستی کے اندر با جماعت نماز میں کوتا ہی، نماز کو صرف ٹھونگیں مار کر پڑھنا اور سنوار کر ادا نہ کرنا اور اس کی ظاہری اور باطنی شرائط سے غفلت برتناسب شامل ہیں۔حدیث میں آتا ہے کہ قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کے متعلق پرسش ہو گی۔اور یہ بھی حدیث میں آتا ہے کہ نماز مومن کا معراج ہے جس میں نماز پڑھنے والا گویا خدا سے باتیں کرتا ہے۔پس نماز نہ پڑھنا یا نماز میں سستی کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔(2) جماعتی چندوں میں سستی بھی بڑی کمزوریوں میں سے ہے۔جس میں شرح کے مطابق چندہ نہ دینا یا کسی مد میں تو چندہ دینا اور کسی میں غفلت اختیار کرنا وغیرہ شامل ہیں۔اس زمانہ میں جو تبلیغ اور اشاعت اسلام کا مخصوص زمانہ ہے چندہ اول درجہ کی نیکیوں میں شامل ہے اور میرا تجربہ ہے کہ اس کی وجہ سے مال ہر گز گھٹتا نہیں بلکہ مال میں برکت پیدا ہوتی ہے۔صدر انجمن احمد یہ کے چندے اور تحریک جدید