مضامین بشیر (جلد 3) — Page 512
مضامین بشیر جلد سوم 512 بڑھے گا اور پھولے گا یہاں تک کہ زمین پر محیط ہو جائے گا اور خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں تجھے برکت پر برکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔“ (تجلیات الہیہ۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 409) پس لاریب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فدا نفسی) کے بعد تاریخ اسلام کا ایک عظیم ترین واقعہ ہے۔دنیا اس وقت اس کی قدر کو نہیں پہچانتی اور خدائی سنت (یا حسرةً على العباد ) کے مطابق اسے جھٹلانے اور اس پر ہنسی ٹھٹھہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔جیسا کہ ہر روحانی مصلح کے زمانہ میں ہوتا چلا آیا ہے۔مگر ایک وقت آئے گا اور خدا کے فضل سے جلد آئے گا کہ وہ آہیں بھرتی ہوئی اس کی قدر کو پہچانے گی اور اس وقت خدا کے بچے مسیح کا یہ قول پورا ہوگا کہ: امروز قوم من نشناسد مقام من روزے بگرید یاد کند وقت خوشترم (در متین فارسی ) ( محررہ 24 مارچ 1958 ء) روزنامه الفضل ربوہ 29 مارچ 1958ء) دوست رمضان کے عہد کو یا درکھیں یہ مہینہ اصلاح نفس کا خاص مہینہ ہے بعض گزشتہ سالوں میں یہ خاکسا را حباب جماعت کی خدمت میں یہ تحریک کرتا رہا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منشاء کے ماتحت دوستوں کو چاہئے کہ رمضان کے مہینہ میں اپنی کسی کمزوری کے متعلق دل میں خدا سے عہد کیا کریں کہ وہ آئندہ اس کمزوری سے ہمیشہ مجتنب رہیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ ارشاد بڑی حکمت پر مبنی ہے۔کیونکہ اول تو انسان کا فرض ہے کہ ہمیشہ ہی اپنے نفس کا محاسبہ کر کے اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرتا رہے اور اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک خدا سے قریب تر ہوتا جائے۔اس کے علاوہ رمضان کا مہینہ اپنے خاص روحانی ماحول اور نماز اور روزہ اور نوافل اور تلاوت قرآن مجید اور ذکر الہی اور صدقہ و خیرات کی وجہ سے اس قسم کے محاسبہ اور ترک منہیات کے ساتھ مخصوص مناسبت رکھتا ہے۔اور