مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 503 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 503

مضامین بشیر جلد سوم رمضان کا فدیہ احباب کرام ابھی سے توجہ فرماویں 503 رمضان قریب آگیا ہے۔اس تعلق میں خاکسار دوستوں کو یاد دلانا چاہتا ہے کہ رمضان کا فدیہ ان لوگوں کے لئے مقرر ہے جو ضعف پیری یا دائم المرض ہونے کی وجہ سے نہ تو پیش آمدہ رمضان کے روزوں کی طاقت رکھتے ہوں اور نہ ہی اپنی صحت یا کمزوری کی بناء پر آئندہ گنتی پوری کرنے کی امید رکھتے ہوں۔ایسے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی ازلی رحمت سے فدیہ تجویز فرمایا ہے جو گویا روزوں کا بدل ہو جاتا ہے۔اور فدیہ کی مقدار یہ ہے کہ جو کھانا انسان اپنی حیثیت کے مطابق بالعموم کھاتا ہے اس کی قیمت کا اندازہ کر کے نقد رقم ادا کردی جائے۔یا اگر کسی کے ماحول میں کوئی غریب رہتا ہو تو اسے کھانے کی صورت میں دے دیا جائے۔یہ تو میرے علم کے مطابق فرض کی صورت ہے۔باقی نفل کی صورت میں بعض بزرگوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص وقتی طور پر بیماری وغیرہ کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکے مگر بعد میں گنتی پوری کر سکتا ہو وہ بھی احتیاطاً فدیہ دے دیا کرے تا کہ رمضان کے روزوں سے محرومی کی مزید تلافی ہو جائے۔یہ بھی ایک بہت مستحسن صورت ہے اور اس پر کئی بزرگوں کا عمل رہا ہے۔گو فرض کی صورت میری ناقص رائے میں وہی ہے جو اوپر بیان کی گئی ہے۔بہر حال اب رمضان کی آمد آمد ہے اور جو احباب معذور ہیں انہیں فدیہ ادا کرنے کی طرف ابھی سے توجہ کرنی چاہئے۔تا کہ ان کی رقم وقت پر مستحقین کے کام آسکے۔اس تعلق میں پہل حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کی اہلیہ صاحبہ نے کی ہے جو آج اس مد میں چھپیس (25) روپے ادا کر گئی ہیں اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔محررہ 14 مارچ 1958 ء) روزنامه الفضل ربوہ 18 مارچ 1958ء) و رمضان کے مسائل کا خلاصہ ایک مبارک مہینہ کی مبارک عبادات قادیان کے زمانہ میں لازماً اور اس کے بعد بھی جب تک صحت اچھی رہی یہ خاکسار ہر رمضان سے پہلے رمضان کے مسائل اور اس کی برکات کے متعلق احباب جماعت کے فائدہ کے لئے لمبے لمبے تحقیقی