مضامین بشیر (جلد 3) — Page 22
مضامین بشیر جلد سوم 22 آزادی کے قیام کے لئے دوسرا میدان جنگ کا میدان ہے۔یہ میدان بھی گرد و پیش کے حالات کی وجہ سے اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے جتنی اہمیت امن کے میدان کو حاصل ہے۔اس کے متعلق قرآن شریف سب سے مقدم اور سب سے ضروری تعلیم یہ دیتا ہے کہ اپنے اندر ایسی قوت پیدا کرو کہ کسی بدخواہ دشمن کی آنکھ تمہاری طرف بدنیت سے نہ اٹھ سکے اور اندرونی قوت کے علاوہ اپنی سرحدوں کو بھی حفاظتی چوکیوں اور نقل و حرکت کے ساز وسامان سے چوکس اور مضبوط رکھو تا کہ اگر کوئی دشمن تمہاری طرف بدنظر اٹھائے تو تم فورا ہی اس کے مقابلہ کے لئے تیار ہو اور اس کے فتنہ کو سراٹھاتے ہی دبا سکو۔اس تعلق میں قرآن شریف فرماتا ہے۔وَاعِدُّوا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رَبَاطِ الْخَيْلِ (الانفال: 61) یعنی اے مسلمانو! دشمن کے مقابلہ کیلئے اپنی ساری قوت کے ساتھ اور قوت کے تمام امکانی پہلوؤں کے پیش نظر تیاری رکھو اور اپنی سرحدوں پر حفاظتی چوکیوں کو پوری طرح مضبوط کرو۔جن میں ضروری نقل و حرکت کا تمام تسلی بخش سامان موجود ہونا چاہئے۔اس لطیف آیت میں آزادی کے قیام کا وہ اہم پہلو بتایا گیا ہے جو اصل جنگ سے قبل جنگی تیاری سے تعلق رکھتا ہے۔خدائے اسلام حکم دیتا ہے کہ گو مسلمان لڑائی کے لئے پہل نہیں کرتا مگر اسے پہل کرنے والے دشمن کے لئے ہر وقت چوکس اور تیار رہنا چاہئے اور اس کی یہ تیاری دو طرح کی ہونی چاہئے۔اول ملک کے اندرونی حصہ میں جس میں فوجی تیاری کے علاوہ عام آبادی کی ٹریننگ اور ان کی ہمتوں کو بلند رکھنا بھی شامل ہے۔اور دوسرے سرحدوں کی مضبوطی جس کے ساتھ نقل و حرکت کا کامل سامان موجود رہنا چاہئے۔یہ وہ زریں ہدایت ہے جس پر کاربند ہو کر کوئی اور ملک غفلت کی حالت میں نہیں پکڑا جاسکتا۔بلکہ وہ حسب ضرورت حملہ آور دشمن کے ملک میں گھسنے کیلئے ہر وقت تیار رہتا ہے۔جنگ کی حالت کا دوسرا پہلو عملی لڑائی سے تعلق رکھتا ہے۔اس کے متعلق قرآن شریف فرماتا ہے۔إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيْلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَّرْصُوصٌ (الصف:5) یعنی اللہ تعالیٰ ان مسلمانوں سے محبت رکھتا ہے جو اس کے رستہ میں اس طرح صف باندھ کر لڑتے ہیں کہ گویا وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی آہنی دیوار ہے۔یہ قرآنی آیت جن زور دار الفاظ میں مسلمان مجاہدوں کے جوش اور ان کی قوت اور ان کے باہمی اتحاد کا نقشہ کھینچ رہی ہے وہ کسی تشریح کی محتاج نہیں۔اس آیت میں یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ مسلمان سپاہیوں کو نہ صرف انفرادی طور پر طاقت پیدا کر کے فولادی رنگ اختیار کر لینا چاہئے بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ بھی وہ اس طرح