مضامین بشیر (جلد 3) — Page 379
مضامین بشیر جلد سوم 379 لَمَا ہیں کہ أَنَا سَيّدُ وُلْدِ ادَمَ وَلَا فَخْرَ اور پھر فرماتے ہیں لَوْ كَانَ مُوسَى وَعِيْسَىٰ حَيَّيْنِ وَسِعَهُمَا إِلَّا اتِّبَاعِي (تفسیر ابن کثیر جلد اول حاشیہ صفحہ 566)۔اور خاص خاص مومنوں کے متعلق قرآن مجید فرماتا ہے اَلسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ أُولَئِكَ الْمُقَرَّبُونَ اور تمام امت محمدیہ عملاً بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء اور دیگر صلحاء رضی اللہ عنہم کے مدارج میں فرق کو تسلیم کرتی اور اس کا برملا اقرار کرتی ہے۔پس اصولی لحاظ سے تو کسی عقل مند انسان کو اس بات میں اعتراض نہیں ہوسکتا کہ خدا کے نیک بندوں میں خواہ وہ نبی ہوں یا کہ خلیفہ ہوں یا کہ دیگر اولیاء اور صلحاء میں سے ہوں، درجہ کا فرق ہوتا ہے۔مگر اس فرق کے ہرگز ہرگز یہ معنی نہیں ہیں کہ کسی نبی یا خلیفہ کی افضلیت سے دوسرے نبیوں یا خلیفوں کی تذلیل اور تحقیر لازم آتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فدا نفسی بلاریب سب دوسرے نبیوں سے افضل تھے۔مگر کیا اس کی وجہ سے دوسرے نبی نعوذ باللہ ذلیل سمجھے جائیں گے؟ اور جب ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اَنَا سَیّدُ وُلْدِ آدَمَ (یعنی میں سب بنی آدم کا سردار ہوں ) تو کیا اس سے یہ سمجھا جائے گا کہ آپ نے نعوذ باللہ دوسرے رسولوں کی تحقیر کی ہے؟ یہ نتیجہ صرف وہی شخص نکال سکتا ہے جس کا دماغ عقل کے جو ہر سے خالی ہے اور جو اسلام کے عام نظریات سے بھی محروم مطلق ہے۔کسی کے افضل ہونے کے صرف یہ معنی ہیں کہ وہ اپنے اوصاف یا اپنے کارناموں میں دوسروں سے فائق درجہ رکھتا ہے نہ یہ کہ دوسرے نعوذ باللہ ذلیل ہیں۔یا کہ کسی کے افضلیت کے دعوے سے دوسروں کی تحقیر لازم آتی ہے۔سب جانتے ہیں کہ بی۔اے ایک اعلیٰ درجہ کی ڈگری ہے مگر اس میں کیا شبہ ہے کہ وہ ایم۔اے کی ڈگری سے کم تر ہے۔لیکن کسی کو ایم۔اے کہنے سے بی۔اے کی تذلیل مقصود نہیں ہوتی۔صرف ڈگری کا فرق ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے۔یہ تو اس اعتراض کا اصولی جواب ہے جو موجودہ فتنہ کے تعلق میں بعض فتنہ پرداز یا کوتاہ اندیشوں کی طرف سے کیا جاتا ہے کہ لیجیو، دوڑ یو حضرت خلیفہ سیح الثانی ایدہ الہ تعالی نے اپنے اعلانوں میں حضرت خلیفتہ اسیح الاول کی تذلیل کی ہے۔یہ لوگ اتنا نہیں سوچتے کہ اگر کسی امر میں حضرت خلیفتہ اسح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنی افضیلت بیان کی ہے تو اس سے صرف اپنی افضلیت پر خدا کا شکر بجالانا اور جماعت کو ایک حقیقت سے آگاہ کرنا مقصود ہے نہ کہ نعوذ باللہ حضرت خلیفہ اول کی تحقیر اور تذلیل۔کہا جاتا ہے کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک غیر مصدقہ خطبہ میں اعلان فرمایا ہے کہ: ” ہم حضرت خلیفہ اول کا بڑا ادب کرتے ہیں مگر یہ لوگ بتائیں کہ وہ کون سے ملک ہیں جن میں حضرت مولوی نورالدین صاحب نے اسلام کی تبلیغ کی۔یورپ ، امریکہ، افریقہ اور ایشیا میں وہ کوئی ایک ملک