مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 380 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 380

مضامین بشیر جلد سوم ہی دکھا دیں جس میں انہوں نے اسلام پھیلایا ہو؟“ 380 اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے ان الفاظ پر شور مچایا جاتا ہے کہ ان سے حضرت خلیفہ اول کی تذلیل لازم آتی ہے۔حالانکہ یہ صرف ایک اصولی حقیقت کا اظہار ہے تا کہ اپنی جماعت کو ہوشیار کیا جائے کہ تم ایک ایسے خلیفہ کی بیعت میں ہو جس کے ذریعہ خدا نے دنیا بھر میں اسلام کی تبلیغ کا ایک وسیع نظام قائم کر رکھا ہے۔اس لئے تمہیں بھی اپنی قربانیوں اور اپنی جدو جہد کو اس وسیع نظام کے مطابق بنانا چاہئے تا کہ اسلام کا بول بالا ہو اور وہ جلد تر ساری دنیا پر غالب آجائے۔ہمارے غیر مبائع افراد کو یا درکھنا چاہئے کہ یہ کلام اصولی رنگ میں اس طرح کا کلام ہے جس طرح کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مسیح ناصری پر اپنی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ: مسیح ابن مریم آخری خلیفہ موسیٰ علیہ السلام کا ہے اور میں آخری خلیفہ اس نبی کا ہوں جو خیر الرسل ہے۔اس لئے خدا نے چاہا کہ مجھے اس سے کم نہ رکھے خدا دکھلاتا ہے کہ اس رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ادنیٰ خادم اسرائیلی مسیح ابن مریم سے بڑھ کر ہیں۔چونکہ میں ایک ایسے نبی کا تابع ہوں جو انسانیت کے تمام کمالات کا جامع تھا اور اس کی شریعت اکمل اور اتم تھی اور تمام دنیا کی اصلاح کے لئے تھی اس لئے مجھے وہ قوتیں عنایت کی گئیں جو تمام دنیا کی اصلاح کے لئے ضروری تھیں۔تو پھر اس میں کیا شک ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو وہ فطرتی طاقتیں نہیں دی گئیں جو مجھے دی گئیں۔کیونکہ وہ صرف ایک خاص قوم (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 154-157) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان الفاظ پر مسیحی لوگ خفا ہوں تو ہوں کیونکہ انہوں نے حضرت مسیح ناصری کو خدا یا خدا کا بیٹا بنا رکھا ہے مگر کسی غیرت مند مسلمان یا کسی غیر مبائع کے لئے ہرگز کسی ناراضگی کی وجہ نہیں۔کیونکہ جہاں حضرت مسیح ناصری علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ تھے اور صرف بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کی اصلاح کے لئے مبعوث کئے گئے تھے وہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام، حضرت افضل الرسل ، خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ تھے اور اپنے آقا و مطاع کی غلامی میں ساری دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: بع ہم ہوئے خیر اہم تجھ سے ہی اے خیر رسل کے لئے آئے تھے۔“ تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے یہ ایک حقیقت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو کچھ پایا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ نفسی) کی غلامی میں پایا اور آپ کے لائے ہوئے دین کی خدمت کے لئے پایا۔پس آپ کا یہ کلام کسی بچے