مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 371 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 371

مضامین بشیر جلد سوم 371 نماز، روزہ وغیرہ میں عادت اور ریا اور نمائش کا دخل ہو سکتا ہے مگر تقویٰ کی روح جو دل کی گہرائیوں میں جاگزین ہوتی ہے۔وہ عادت اور ریا سے لازماً پاک رہتی ہے۔دراصل وہ ایک خالص طاہر و مظہر جو ہر ہے جو دل میں پیدا ہوتا ہے اور پھر سارے اعضاء پر چھا جاتا ہے۔میں نے کئی آدمیوں کو دیکھا ہے جو بظاہر نماز ، روزہ کے پابند نظر آتے ہیں مگر ان میں تقویٰ کی روح مفقود ہوتی ہے۔ان کا جسم بظاہر پاک وصاف دکھائی دیتا ہے مگر ان کے دل میں جذام کے داغوں نے غلبہ پا کر اس کی اعلیٰ صفات کو خاک میں ملا دیا ہوتا ہے۔وہ ذرا ذراسی بات پر نا جائز باتوں کی طرف اس طرح لپکتے ہیں جس طرح ایک گدھ کسی مُردار کتے کی لاش کی طرف بھاگ کر آتی ہے اور حرام مال کھانا اور حرام مال کے ذرائع تلاش کرنا گویا ان کا دن رات کا مشغلہ ہوتا ہے۔پس یہ یقینی بات ہے کہ اصل نیکی نماز ، روزہ میں نہیں ہے یہ تو محض شاخیں ہیں۔بلکہ اصل نیکی دل کے تقویٰ میں ہے جو بطور جڑھ کے ہیں اور تقویٰ سے مراد وہ نیکی کا مستقل جذبہ ہے جس کے ماتحت ایک انسان اپنے ہر حرکت و سکون میں خدا کی طرف دیکھتا ہے اور کوئی قدم اس کے منشاء کے خلاف نہیں اٹھاتا۔وہ ہر وقت خدا کی رضا کے رستوں کو تلاش کرتا اور اس کی ناراضگی کے مواقع سے اس طرح بچتا ہے جس طرح ایک ہوش و حواس رکھنے والا انسان سانپ یا شیر سے بھاگتا ہے اور حق یہ ہے کہ نماز بھی اس شخص کی نماز ہے جس کے دل میں تقویٰ ہے اور روزہ بھی اسی کا روزہ ہے جس کا دل تقویٰ سے معمور ہے۔باقی سب سوکھی ہوئی شاخیں ہیں جن کی ہمارے خدا کے حضور کوئی قدرو قیمت نہیں۔پس ہمارے دوستوں کو چاہئے کہ اپنے دل میں تقویٰ پیدا کریں اور یہ بات ہمیشہ یا درکھیں کہ تقوی خدا کی رضا کی تلاش اور اس کی ناراضگی سے بچنے کا نام ہے اور یہ وہ جذبہ ہے جس کا صدر مقام دل ہے اور جس سے ہر نیک عمل کی آبپاشی ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کیا خوب فرماتے ہیں: عجب گوہر ہے جس کا نام تقویٰ جس کا کام تقوی اسلام تقوی مبارک وہ ہے حاصل خدا کا اور جام تقوی تقوی مسلمانو! بناؤ تام کہاں ایماں اگر ہے خام تقویٰ دولت تو نے مجھ کو اے خدا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْاعَادِي