مضامین بشیر (جلد 3) — Page 318
مضامین بشیر جلد سوم 318 عبدالرحیم صاحب درد ایم اے مورخہ 7 دسمبر 1955 ء بروز بدھ ربوہ میں وفات پا گئے ہیں۔وفات حرکت قلب کے بند ہو جانے کی وجہ سے واقع ہوئی اور در دصاحب دو گھنٹہ کی مختصر علالت کے بعد اپنے اور ہم سب کے آقا ومولا و مالک کے حضور حاضر ہو گئے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ - وَكُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَّ يَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُوالْجَلَال وَالْإِكْرَامِ محترمی در د صاحب ایک نہایت مخلص خاندان کے مخلص فرد تھے۔ان کے والد صاحب مرحوم ماسٹر قادر بخش صاحب لدھیانوی قدیم اور مخلص صحابہ میں سے تھے اور ان کے پھوپھا حضرت منشی عبداللہ صاحب سنوری کو تو جماعت کا ہر فرد جانتا ہے۔منشی محمد عبد اللہ صاحب سنوری کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں نہایت درجہ محبت کے ساتھ ذکر فرمایا ہے اور ان کے اخلاص اور تقومی شعاری کی بہت تعریف کی ہے۔یہ وہی بزرگ ہیں جن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنا وہ قمیص عنایت فرمایا جس پر خدائی روشنائی کے چھینٹے پڑے تھے اور جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد کے مطابق حضرت منشی صاحب مرحوم کے ساتھ ہی مقبرہ بہشتی قادیان میں دفن کر دیا گیا۔بلکہ جیسا کہ میری تصنیف سیرۃ المہدی میں مذکور ہے۔درد صاحب مرحوم کی پھوپھی مرحومہ کی شادی بھی حضرت منشی محمد عبد اللہ صاحب مرحوم کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد پر ہی ہوئی تھی۔اس طرح در د صاحب ایک ایسے مبارک خاندان سے تعلق رکھتے تھے جو احمدیت کی تاریخ میں ایک خاص شان رکھتا ہے۔درد صاحب خود بھی صحابی تھے اور ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کی بعض باتیں بھی یاد تھیں۔جن میں سے بعض کا ذکر سیرت المہدی میں آچکا ہے۔مگر در دصاحب کی ذاتی خدمات کا سلسلہ خلافت ثانیہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔دردصاحب اور میں نے ایم اے کا امتحان اکٹھا پاس کیا تھا۔جس کے بعد وہ کچھ عرصہ ضلع ہوشیار پور کے ایک ہائی سکول میں ملازم ر ہے مگر بہت جلد ہی وہاں سے فراغت حاصل کر کے سلسلہ حقہ کی خدمت میں آگئے اور جب حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 21-1920ء میں نظارتیں قائم کیں تو ابتدائی ناظروں میں سے درد صاحب بھی ایک صیغہ کے ناظر مقرر ہوئے اور اس وقت سے لے کر آج تک جو پینتیس سال کا عرصہ بنتا ہے۔دردصاحب نے اس وفاداری اور جاں نثاری کے ساتھ اس خدمت کو نبھایا جو انہی کا حصہ تھی۔کبھی اپنی تنخواہ میں ترقی کا مطالبہ نہیں کیا۔کبھی کوئی حق نہیں مانگا۔بلکہ جو کچھ بھی سلسلہ کی طرف سے ملا اسے کامل رضا اور پورے صبر وشکر کے ساتھ قبول کیا۔مجھے یاد ہے کہ جب ہم شروع میں خدا کے ساتھ عہد باندھ کر سلسلہ کی