مضامین بشیر (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 312 of 760

مضامین بشیر (جلد 3) — Page 312

مضامین بشیر جلد سوم 312 یہ پیشگوئی بھی اس سفر میں پوری پوری شان کے ساتھ چسپاں ہوتی ہے۔کیونکہ علاوہ اس کے کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس سفر کے دوران میں مختلف ملکوں اور قوموں میں قیام کر کے انہیں برکت پہنچائی۔حضور نے اس سفر میں ایک عالمگیر تبلیغی کا نفرنس بھی لندن میں منعقد فرمائی۔جس میں نو ملکوں کے مبلغوں نے شرکت کر کے حضور سے تبلیغی ہدایات حاصل کیں۔یہ نو ملک یہ تھے انگلستان، اٹلی، جرمنی، ہالینڈ، سوئٹزر لینڈ ، پین ، شمالی امریکہ، ٹرینیڈاڈ (یعنی جنوبی امریکہ ) اور مغربی افریقہ ( لفضل ) یہ سب مبلغ حضرت خلیفہ آج ایدہ اللہ کے نائب اور نمائندہ تھے اور جو تو میں ان سے برکت پارہی ہیں یا آئندہ پائیں گی وہ گویا خود حضرت خلیفہ اسیح ایدہ اللہ تعالیٰ سے برکت پائیں گی۔اس طرح حضور کے سفر از کراچی تالندن میں ملنے والی قومیں اور اس کے بعد تبلیغی کانفرنس والی قو میں مل کر ایک جہت سے سات اور دوسری جہت سے نو ہو جاتی ہیں۔جو حضرت خلیفہ اسیح ایدہ اللہ کے مکاشفہ کے عین مطابق ہے۔جس میں سات یا نو کنواری لڑکیاں دکھائی گئی تھیں اور یہ جو الہامی الفاظ میں ان قوموں کو کنواریاں ( یعنی Virgins) کہا گیا ہے۔اس سے اس بات کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ یہ تو میں خدا کے بچے دین اسلام سے بالکل کوری اور نابلد ہوں گی۔گویا کہ انہیں آج تک کسی روحانی مصلح کے مبارک ہاتھوں نے نہیں چھو مگر حضرت مسیح موعود کے خلیفہ برحق سے برکت پا کر وہ نہ صرف خود اپنے گھروں کو روحانیت سے آباد کریں گی بلکہ زندہ نسلوں کی مائیں بھی بن جائیں گی۔اب دیکھو کہ کس طرح حضرت خلیفہ مسیح ایدہ اللہ تعالی کےاس سفر میں یہ تین عظیم الشان پیشگوئیاں پوری ہوئی ہیں۔گویا کہ حضور کا یہ سفر اجتماع الآیات بن گیا ہے اور اگر کوئی شخص یہ خیال کرے کہ حضور کا 1924 ء کا سفر ولایت بھی تو تبلیغ کی غرض سے تھا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو پیشگوئیاں کئی رنگوں میں پوری ہو سکتی ہیں اور اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا۔دوسرے اگر غور کیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ حضور کا موجودہ سفر ہی اس پیشگوئی کا اصل ظہور ہے۔کیونکہ اول تو 1924ء والے سفر میں ابھی تک حضرت خلیفۃ امسیح ایدہ اللہ کو اپنے مصلح موعود ہونے کا انکشاف نہیں ہوا تھا اور نہ ہی حضور کو اس کا دعوی تھا۔دوسرے اس سفر میں حضور سید ھے لندن چلے گئے تھے اور راستہ میں کسی جگہ قیام نہیں کیا تھا۔سوائے ایسے وقتی قیام کے جو سفر کا ہی حصہ ہوتا ہے۔مگر موجودہ سفر میں متعدد ملکوں اور قوموں میں باقاعدہ قیام ہوا ہے۔تیسرے 1924 ء میں احمدی مبلغوں کی کوئی کانفرنس منعقد نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی اس وقت قوموں کو برکت دینے کا کوئی خاص پروگرام بنا تھا اور چوتھے 1924 ء میں سمندری سفر تھا۔مگر اس کے مقابل پر موجودہ سفر ہوائی سفر ہے۔جو